برگِ سبز — Page 64
برگ سبز تھا۔جہاں السلام علیکم کی گونج ہوتی تھی۔جہاں تلاوت قرآن کی آواز ہر گھر سے آتی تھی۔یہ مختصر تعارف بھی مفصل ہوتا جا رہا ہے۔ایسے حالات میں ایک اجنبی اور نئی جگہ دو احمدی بھائیوں کی باہم اچانک ملاقات کس قدر خوشی کا باعث ہوتی ہوگی۔اس کے لئے ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔ضلع جہلم میں ایک مشہور قصبہ دوالمیال کے نام سے مشہور ہے۔اس کی شہرت کی وجہ وہاں کے وطن عزیز کی فوج کے جیالے ہیں۔ہر گھر سے نوجوان بھرتی ہو کر بہادری اور جانبازی کی اعلی مثالیں قائم کرنے والے اور بلند ترین فوجی اعزازات حاصل کرنے والے۔اس دور دراز علاقہ میں احمدیت حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے زمانہ میں پہنچ چکی تھی اور کسی صاحب دل احمدی نے پہاڑ کی بلندی پر بہت ہی موزوں جگہ پر اچھی فراخ اور وسیع مسجد تعمیر کروائی ہوئی تھی۔اس مسجد میں مینارة امسيح قادیان سے ملتا جلتا کسی قدر چھوٹا ایک مینار بھی ہے اور غالباً اسی وجہ سے علاقہ میں یہ قصبہ قادیان ثانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔اس مسجد میں بیٹھ کر ہمارے بزرگ حضرت قاضی عبد الرحمان صاحب دراز قد ، صحت مند ، فربہ جسم ہمسکرا تا ہوا چہرہ، نورانی داڑھی ،مخلص اور فدائی نے خاکسار کو اپنا ایک پرانا واقعہ سنایا۔انہیں کی زبانی سنئے۔جنگ عظیم میں جب ہمیں برما بھجوانے کے لئے ایک خستہ حال مال بردار قسم کے جہاز میں سوار کیا گیا اور میں نے جہاز میں جا کر دیکھا کہ مسافر تو بہت زیادہ ہیں مگر نہ تو کوئی انتظام ہے اور نہ ہی ضروری سہولتیں میسر ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر مجھے یہ خیال ستانے لگا کہ میں غیر ملک میں جارہا ہوں۔میرے ساتھ کوئی بھی احمدی نہ ہوگا گویا با جماعت نماز بھی میسر نہ ہوگی۔درس قرآن وحدیث سننے کو نہ ملے گا۔ذکر حبیب اور ملفوظات سے بھی محروم رہوں گا۔ان خیالات نے اتنا غلبہ کیا کہ میں نے جہاز کے ایک کونے میں جا کر نماز شروع کر دی۔نماز میں 64