برگِ سبز

by Other Authors

Page 54 of 303

برگِ سبز — Page 54

برگ سبز خوش قسمتی ہے کہ میری ابتدائی تقرری کراچی میں ہوئی۔حضرت مولوی صاحب سے براہ راست استفادہ کا موقع ملا۔کراچی سے حضرت مولوی صاحب غانا تشریف لے گئے خاکسار بھی کراچی کے بعد ملتان ، حیدر آباد وغیرہ مقامات پر رہا اور جب حضرت مولوی صاحب بطور ناظر اصلاح وارشاد مرکز یہ میں خدمات بجالا رہے تھے تو اس وقت بھی ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل گیا۔الحمد للہ۔ان دنوں خاکسار کی بطور مربی لاہور میں تقرری ہوئی۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ اب ہم لاہور میں آپ کے پاس ہی رہا کریں گے۔خاکسار نے اپنے دل میں سوچا کہ حضرت مولوی صاحب کے لاہور میں ہزاروں جاننے والے ہیں، حضرت مولوی صاحب کے رشتہ دار بھی لاہور میں ہی موجود ہیں ، میرے جیسے درویش کو حضرت مولوی صاحب کی میزبانی کا شرف کہاں حاصل ہوگا۔مگر کچھ عرصہ کے بعد آپ کا لا ہور آنے کا پروگرام بن گیا اور مجھے بھی اپنی اس خوش قسمتی کی اطلاع مل گئی کہ حضرت مولوی صاحب میرے پاس تشریف لائیں گے۔لاہور کے احباب خوب جانتے ہیں دہلی دروازہ کی پرانی مسجد کے ساتھ مربی کی پرانی طرز کی رہائش گاہ ہوتی تھی۔خاکسار مرکز سے جاتے ہوئے اپنا بستر ساتھ لے گیا تھا اور اس طرح وہاں میری کل کائنات ایک چار پائی اور چند کتابیں ہی تھیں۔بہر حال جماعت نے حضرت مولوی صاحب کی رہائش کا انتظام کر دیا۔برسبیل تذکرہ یہ بھی ذکر کر دوں کہ جب خاکسار نے حضرت مولوی صاحب سے ناشتہ کیلئے پوچھا تو انہوں نے سادہ نان، مکھن اور چائے کی فرمائش کی جس بات کا یہاں ذکر کرنا مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے دوپہر کے وقت کچھ مطالعہ کرنا چاہا اور میری کتابوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔وہاں جوش ملیح آبادی کی مشہور کتاب یادوں کی بارات رکھی تھی جو میرے ایک جانے والے یہ کہہ 54