برگِ سبز

by Other Authors

Page 55 of 303

برگِ سبز — Page 55

برگ سبز کر مجھے دے گئے تھے کہ آج کل یہ نئی کتاب آئی ہے شاید آپ نے ابھی نہیں دیکھی ہوگی۔۔۔یادوں کی بارات میں جوش صاحب نے بہت کھل کر اپنی آزاد روی کا ذکر کیا ہے۔حضرت مولوی صاحب کے ہاتھ میں وہ کتاب دیکھ کر مجھے کچھ گھبراہٹ ہوئی۔۔۔ہم عصر کی نماز کیلئے مسجد میں گئے۔حضرت مولوی صاحب نے نماز پڑھائی اور پھر ہم میں سے کسی کی درخواست پر نہایت عمدہ برجستہ نصائح فرمائیں۔یہاں یہ بتانے یا لکھنے کی ضرورت تو نہیں ہے کہ حضرت مولوی صاحب میدان خطابت کے شہسوار تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو جن خوبیوں سے نوازا تھا ان میں قوت بیان کی خوبی بہت نمایاں تھی۔حضرت مولوی صاحب نے ان نصائح کے درمیان فرمایا کہ ابھی میں جوش صاحب کی کتاب ”یادوں کی بارات دیکھ رہا تھا ( خاکسار تو کچھ اور دبک کر بیٹھ گیا کہ نجانے کیا ذکر ہونے لگا ہے ) اس میں جوش صاحب نے ایک بزرگ کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ لوٹے اور مصلے کے آدمی تھے جبکہ میں جام و ساغر کا آدمی ہوں۔وہ کوئی نماز چھوڑتے نہیں تھے اور میں ادھر کا رُخ بھی نہیں کرتا۔وغیر ہ ، مگر اس بزرگ کا بہت اچھے رنگ میں ذکر کیا ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئے کہ جو بھی کسی احمدی کو ملے اور دیکھے وہ اس کی نیکی سے ضرور متاثر ہو۔حضرت مولوی صاحب نے شہد کی مکھی کی طرح اس کتاب سے بھی اچھی اور اپنے مطلب کی بات حاصل کر لی۔اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کی نیکیوں کو قائم رکھے۔بہترین جزا سے نوازے اور ہمیں ان خوبیوں سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔55