برگِ سبز — Page 39
برگ سبز تھے۔۔۔اس بات پر وہ کچھ حیر ان سے ہو گئے۔اتنی دیر میں ان کے ماموں بھی آچکے تھے۔وہ میری بات دوہرا کر کہنے لگے ماموں یہ تو ایسے کہتے ہیں۔ماموں بھی اس بات سے بھانجے جتنے ہی واقف معلوم ہوتے تھے۔وہ گفتگو جو ان کے کہنے کے مطابق رات بھر ہوئی تھی ، چند منٹوں میں ختم ہوگئی اور بورے والا کے مذہبی حلقوں میں بعد میں بھی اس کا چرچا ہوتا رہا۔ملتان شہر میں ہماری مسجد کے قریب ہی ایک صاحب کی دکان تھی۔ہم انہیں حیدری صاحب کے نام سے جانتے تھے۔وہ ہمارے خادم سید عبد السبحان ناصر صدیقی کے دوست تھے کبھی کبھی گفتگو کیلئے ہماری مسجد میں بھی آجاتے تھے۔یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ احمدیت کے ایک گمنام سپاہی یعنی سید عبد السبحان صاحب کا تھوڑا تعارف کروا دیا جائے۔ناصر صاحب سہارنپور انڈیا کے رہنے والے تھے۔بچپن میں کسی بیماری کی وجہ سے ان کی سنے کی صلاحیت ختم ہوگئی تھی ، باوجود اس معذوری کے اچھی مذہبی معلومات رکھتے تھے۔تبلیغ کا بہت شوق تھا۔بعض دفعہ اسی شوق کی وجہ سے ان کی پٹائی بھی ہوئی مگر وہ راضی برضا ر ہتے اور تبلیغ کرتے رہتے تھے۔ہر وقت لٹریچر ساتھ رکھتے تھے۔ان کا حلقہ واقفیت اسی وجہ سے خاصا وسیع تھا۔بالعموم اپنے گلے میں ایک سلیٹ لٹکائے رکھتے تھے اور بات چیت میں اس سے مدد لیتے تھے۔خاکسار نے اپنے ایک جاننے والے ڈاکٹر صاحب کے ذریعہ کوشش کی تھی کہ اگر ان کا علاج ممکن ہو یا کوئی آلہ ان کیلئے مفید ہو تو ان کی مدد کی جائے۔اس سلسلہ میں خاکسار نے بعض احباب سے لندن میں رابطہ بھی کیا تھا۔مگر افسوس کہ ان کا علاج نہ ہو سکا۔خاکسار ملتان سے تبادلہ کے بعد مختلف جگہوں پر رہا۔وہ ربوہ بھی ملنے آتے تھے۔جوانی میں ہی بیمار ہو کر وفات پاگئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔خاکسار ان کی بیماری کے وقت ان کے پاس نہیں تھا اور نہ ہی کوئی خدمت کر سکا۔جہاں تک مجھے معلوم 39