برگِ سبز — Page 292
برگ سبز متعلق یہ بات کسی نے داشتہ مشہور کر دی ہے لیکن میں نے وہ رقم چپکے سے پانی میں پھینک دی تاکل کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ حدیث جمع کرنے والے اس شخص پر چوری کا الزام لگا تھا۔گویا آپ نے اپنا نقصان صرف اس وجہ سے برداشت کر لیا کہ آپ ایک الزام اور تہمت سے محفوظ رہیں۔یہ سب باتیں اس لئے ذہن میں آ رہی ہیں کہ ہمارے وطن پاکستان میں ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی وبا بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ہم میں سے اکثر کو یہ امر اچھی طرح یاد ہوگا کہ اگر کبھی کسی پر رشوت لینے یا کسی اور بے ایمانی یا بدانتظامی کا الزام لگتا تو وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا تھا اور معاشرے میں اسے عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔اب یہ صورت ہے کہ ملک کا سب سے معزز عہدے پر فائز منتخب عہدیدار الزامات کی زد پر آتا ہے اور اسے جھوٹا، چور، خائن ، بے ایمان اور جو بھی گالی منہ میں آتی ہے، بک دی جاتی ہے اور اس طرح نوجوانوں کے اخلاق۔عام لوگوں کی وضعداری کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ہمارا ملک بدانتظامی اور بد معاملگی کی مثال بن گیا ہے اور کسی کو اس بات کا احساس تک نہیں ہے کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی حالت تو شاید کبھی بہتر ہو جائے مگر جو اخلاقی دیوالیہ پن ہے اس کا ازالہ کب اور کیسے ہو سکے گا۔آجکل ہمارے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں بد معاملگی اور بد دیانتی کا ایک بہت بڑا مقدمہ چل رہا ہے۔مقر ر جج صاحبان اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہیں مگر یوں نظر آتا ہے کہ عدالت سے باہر مقدمہ کا چر چا زیادہ ہے۔ہرا اینکر پرسن ، ہر لال بجھکڑ اپنی اپنی رائے دے رہا ہے۔فیصلے سے پہلے فیصلہ سنایا جا رہا ہے۔عدالت کی کارروائی کو اپنے اپنے رنگ اور اپنے اپنے مفاد میں پیش کیا جاتا ہے۔نوبت یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ ایک 292