برگِ سبز — Page 288
برگ سبز میرے دل سے اتر گئی ہے میں اور کوئی الزام اس پر نہیں لگانا چاہتا۔بظاہر یہ بہت خوبصورت اور سادہ سا فقرہ لگتا ہے۔یہ بھی لگتا ہے کہ موصوف الزامات اور دوسری بری باتوں سے احتراز کر رہے ہیں۔لیکن اگر غور کیا جائے تو نفرت تو اس فقرے کے ہر حرف سے نظر آتی ہے۔آپ نے جب شادی کی تھی تو خوب غور وفکر کیا ہو گا۔بہت ممکن ہے آپ کے بزرگوں نے بھی تحقیق کی ہو۔آپ کو بہت سی خوبیاں معلوم ہوئی ہوں گی اگر اب بھی مزعومہ یا مفروضہ غلطیوں کو نظر انداز کر کے خوبیوں پر نظر رکھی جائے تو اختلاف کے بادل اترنے کی صورت پیدا ہی نہیں ہوگی۔مسجد فضل میں ایک نکاح کے خطبہ میں حضرت امیر المؤمنین خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اس بات کو ہم میں سے ہر ایک کو یا د رکھنا چاہئے کہ اگر بجائے اس کے کہ دوسروں کی خرابیوں، کمزوریوں، کمیوں کی طرف توجہ دلائی جائے اور اس کو اصلاح کے لئے کہا جائے اگر اپنی نظر میں اپنے اندر کوئی برائیاں بھی نہیں ہیں تب بھی ان برائیوں کو اپنے سر لے لیں۔۔۔جب ہر ایک بجائے دوسرے کو الزام دینے کے اپنے اوپر الزام لیتا جائے تو معاشرے کی اصلاح ہوتی چلی جاتی ہے۔جھگڑے اور فساد ختم ہو جاتے ہیں۔آپس میں جو رنجشیں ہیں وہ دور ہو جاتی ہیں۔“ اسی خطبہ نکاح میں آپ فرماتے ہیں: ہمیشہ یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ سے تو بہ اور استغفار کرتے رہو۔اپنی برائیوں پر نظر رکھو۔اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔اپنی اصلاح کرو۔اپنے آپ کو نمونہ بناؤ تو آئندہ نسلیں بھی اس نمونے پر چلنے والی ہونگی اور اپنی اصلاح کرنے والی 288