برگِ سبز — Page 287
برگ سبز BEDلے دیں۔مگر انہوں نے لے کر نہیں دیئے۔ظاہر ہے کہ یہ کوئی بڑی وجہ نہیں تھی۔تاہم شوہر صاحب نے بتایا کہ یہ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔انہوں نے یہ فرمائش کی تھی مگر میں نے ان سے کہا کہ اس BED کے کنارے بہت تیز ہوتے ہیں۔ہمارا بچہ چھوٹا ہے اس کو چوٹ لگ سکتی ہے۔بچے کے بڑے ہونے پر ان کی فرمائش پوری کر دی جائے گی۔اس سارے واقعے سے یہی پتہ چلتا ہے کہ معمولی معمولی باتوں سے میاں بیوی کا مقدس رشتہ جو خدا تعالیٰ کو گواہ ٹھہرا کر قائم کیا گیا تھا، وہ متاثر ہو جاتا ہے۔حالانکہ اگر ایک دوسرے کا احترام کیا جائے۔ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھا جائے تو ایسے معمولی بلکہ بڑے معاملات بھی سلجھائے جا سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ اصول بھی بیان فرمایا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو اپنے لئے اچھا سمجھو مگر وہ اچھی نہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو برا سمجھو مگر در حقیقت وہ بری نہ ہو۔اگر ہم اپنے معاملات کو خدا تعالیٰ کے ارشادات اور آنحضرت صلی ایم کی احادیث کے مطابق حل کرنا چاہیں اور نیک نیت ہوں تو ہر خرابی دور ہو کر اسی دنیا میں جنتی زندگی حاصل ہو سکتی ہے۔تنزانیہ کا ہی ایک اور واقعہ یاد آ رہا ہے۔ایک پڑھے لکھے احمدی نوجوان جو اچھی شہرت کے حامل تھے ، ان کے متعلق اچانک سننے میں آیا کہ موصوف اپنی بیوی کو طلاق دے رہے ہیں۔ان کی بیوی بھی ایک معروف احمدی خاندان سے تھی۔اس وجہ سے یہ خبر بڑی عجیب اور بری لگی۔مکرم مولنا محمد منور صاحب مرحوم ان دنوں وہاں ہوتے تھے۔اتفاق سے انہوں نے اس احمدی نوجوان سے بات کی تو خاکسار بھی ان کے ساتھ تھا۔ان سے مفصل گفتگو ہوئی۔مجھے ان کا ایک فقرہ یاد ہے، جب ان سے طلاق کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بڑی معصومیت سے جواب دیا کہ وہ میری بیوی تھی ہم اکٹھے رہے ہیں۔بس میں اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ 287