برگِ سبز — Page 233
برگ سبز بتاؤں جو خدا تعالیٰ نے حرام کر دی ہے تم پر۔ایک یہ کہ خدا کا شریک نہیں ٹھہرانا۔اپنی عبادت کو اسی کے لئے خالص کر لو۔دوسرا یہ کہ ماں باپ سے لازماً احسان کا سلوک کرنا ہے اور ماں باپ کی نافرمانی کر کے خدا کی ناراضگی نہ کما بیٹھنا۔تو شرک کا مضمون خدا تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا کہ میرا شرک کرو گے تو یہ بہت ہی بڑا گناہ ہوگا۔حرام کر دیا ہے تم پر لیکن ماں باپ سے احسان کرو گے وہ میرا شریک بنانا نہیں ہے۔شرک سے نیچے نیچے اگر کسی کی عظمت خدا تعالیٰ نے قائم فرمائی ہے تو وہ ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی ہی نہیں اس سے بڑھ کر ان سے حسن سلوک کرنا ہے۔پس حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ رمضان شریف میں دو آدمی بڑے بدقسمت ہیں جو نہ خدا کو پاسکیں ،نہ ماں باپ کا کچھ کرسکیں۔رمضان گزر جائے اور ان دو پہلوؤں سے ان کے گناہ نہ بخشے گئے ہوں تو یہ دوالگ الگ چیزیں نہیں ، ایک دوسرے کے ساتھ مربوط چیزیں ہیں۔وجہ یہ ہے کہ اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے اور اس احسان میں اور کوئی شریک نہیں ہے۔یعنی اس نے آپ کو پیدا کیا، اس نے سب کچھ بنایا اور ماں باپ بھی اس میں شریک ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ ماں باپ کو بھی اسی نے بنایا اور ماں باپ کو جو توفیق بخشی آپ کو پیدا کرنے کی وہ اسی نے پیدا کی ہے، اپنے طور پر تو کوئی کسی کو پیدا کر ہی نہیں سکتا اپنے زور سے۔ایک معمولی سا خون کا لوتھڑا بھی انسان پیدا نہیں کر سکتا اگر خدا تعالیٰ نے اس کو ذرائع نہ بخشے ہوں۔تو پہلا مضمون یہ ہے کہ اللہ خالق ہے اس لئے اس کا شریک ٹھہرانے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے۔اور سب سے بڑا ظلم ہے کہ خدا جس نے سب کچھ بنایا ہے اس کو 233