برگِ سبز — Page 198
برگ سبز نوجوان تو اللہ کو پیارا ہو گیا ہے۔محترم چودھری صاحب ان کے گھر گئے۔سب لوگوں کو ایک طرف کر کے دعا میں مشغول ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس نو جوان میں زندگی کے آثار پیدا ہونے لگے۔محترم چودھری صاحب بتایا کرتے تھے کہ اس علاقے کے لوگ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ احمدی مبلغ نے اپنی دعا سے مردہ زندہ کر دیا۔محترم چودھری صاحب کو باغبانی کا بھی خوب ملکہ تھا۔جہاں بھی آپ رہے وہاں اپنی یادگار کے طور پر خوشنما باغیچہ چھوڑ جایا کرتے تھے۔طمبورا اور موروگورو میں تو خاکسار نے ان کے لگائے ہوئے پودوں ، پھلوں، پھولوں سے استفادہ بھی کیا۔محترم چودھری صاحب کو تبلیغ کا خوب شوق اور تجربہ تھا۔آپ اپنے مخاطب سے کوئی نہ کوئی پرانی پہچان نکال کر بڑی اپنائیت سے بہت مؤثر رنگ میں بات چیت کرتے جس کا خوب اثر ہوتا۔خاکسار کو میدان عمل میں محترم چودھری صاحب، مکرم مولنا محمد منور صاحب ، محترم عبدالکریم شر ما صاحب اور محترم بشیر اختر صاحب کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔یہ ایسے قابل رشک بزرگ تھے جو اپنے نیک نمونے اور وقف کے جذبے سے سرشار ہمہ وقت خدمت میں مصروف رہتے۔اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے بہترین جزا سے نوازے۔منهم من قضى نحبه و منهم من ينتظر 198