برگِ سبز

by Other Authors

Page 170 of 303

برگِ سبز — Page 170

برگ سبز موصوف نے اس میں بعض ضروری حواشی دے کر اسے مستقل تاریخی ماخذ بنادیا ہے۔مکرم قریشی صاحب نے اپنے مدوح مولنا مودودی صاحب کا تعارف کروانے کا حق ادا کرتے ہوئے ان کے علم و عمل کی اپنے رنگ میں خوب تصویر کشی کی ہے۔اس انٹرویو کے حاشیے میں آپ جہاد کشمیر کے ذکر میں لکھتے ہیں :۔۔درس قرآن کے اختتام پر ایک صاحب نے مولنا سے جہاد کشمیر کے بارے میں سوال کیا۔وہ پہلے خاموش رہے۔بار بار اصرار کے بعد فرمانے لگے کہ قرآن کریم کی رو سے صرف ریاست جہاد کا اعلان کرنے کی مجاز ہے، مسلح غیر ریاستی جتھے اپنے طور پر کسی ملک یا ریاست کے خلاف جہاد شروع نہیں کر سکتے " ایک اہم اسلامی رکن جہاد کے متعلق مولنا " خاموش کیوں رہے۔اس موضوع پر وہ پہلے لکھ بھی چکے تھے اور متعد مواقع پر بول بھی چکے تھے۔تاہم اگر انہوں نے احتیاط کے طور پر بھی خاموشی اختیار کی تو یہ کوئی بری یا غلط بات نہیں تھی۔بار بار اصرار پر جو کچھ مولنا نے فرمایا وہ ان کی سوچی سمجھی رائے تھی۔کوئی وقتی رد عمل یا دفع الوقتی نہیں تھی۔اس زمانے میں قریباً تمام پاکستانیوں نے جن میں عام مسلمان اور علمائے کرام بھی شامل تھے۔مولنا کے اس فتوی کو غلط سمجھا اور اس پر بہت برا منایا۔جماعت اسلامی کے متعلق تو پہلے ہی یہ تأثر موجود تھا کہ انہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور قائد اعظم کی کوششوں کو غلط اور بے کار سمجھتے تھے اور قیام پاکستان کے بعد اس موقف کی وضاحت میں ان کو کافی مشکل پیش آرہی تھی۔اس پر کشمیر کے جہاد کے متعلق ان کے فتوے نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور انہیں اور ان کی جماعت کو بہت وضاحتیں دینی پڑیں۔مکرم قریشی صاحب نے 170