برگِ سبز — Page 171
بھی اپنے اسی حاشیہ میں لکھا ہے: برگ سبز چودھری صاحب کے متعلق یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ ایک مشہور ومعروف احمدی تھے اور اس امر سے مولنا بھی بخوبی واقف تھے۔ان کے خلاف نہایت زہریلا پروپیگینڈا کیا گیا جس کے باعث عوام کے اندر شدید رد عمل پیدا ہوا۔اکثر علماء بھی اس حقیقت کا ادراک نہ کر سکے۔جماعت اسلامی نے عام لوگوں تک مولانا کا صحیح موقف پیچانے کے لئے بڑے بڑے پوسٹر شائع کئے۔مجھے یاد ہے کہ جب ہم چند نو جوان پوسٹر لگانے رات کے وقت نکلتے تب لوگ ہم پر پتھر پھینکتے اور شدید غصے کا اظہار کرتے " اس تحریر سے مخالفت کی جور و چلی تھی اس کا پوری طرح اندازہ ہوسکتا ہے کہ عام پاکستانی اگر رات کے وقت بھی نوجوانوں کو جماعت اسلامی کی حمایت یا جہاد کے متعلق ان کے فتوای کی وضاحت کرتے ہوئے کوشاں نظر آتے تو انہیں پتھر مارے جاتے تھے۔اس جگہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولنا مودودی نے اپنا یہ فتوی مسلمان عوام اور علماء کے کہنے پر واپس نہیں لیا بلکہ یہ فتویٰ کیوں اور کب واپس لیا گیا۔مکرم قریشی صاحب اس سلسلہ میں لکھتے ہیں: ” جب پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان صاحب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ اعلان کیا کہ ہماری فوجیں کشمیر میں لڑ رہی ہیں۔تب مولنا نے اپنی جماعت کو جہاد کشمیر میں حصہ لینے کی تلقین فرمائی اور تمام مسلمانوں کو بھی اپنا فریضہ ادا کرنے کا احساس دلایا۔“ ( ملاقاتیں کیا کیا۔صفحہ 88 ) 171