برگِ سبز — Page 124
برگ سبز که مولوی صاحب ہمارے امام اور خطیب ہیں اور ہمیشہ دینی کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور اس کے سوا ان کا کوئی اور کاروبار نہیں ہے۔اس لئے جماعت کی طرف سے مبلغ ساٹھ روپے ماہوار مولوی صاحب کی خدمت میں پیش کئے جایا کریں۔منشی محمد عبد اللہ صاحب ریڈ رسیشن جج سیالکوٹ جو مولوی صاحب کے بے تکلف دوست تھے اس کام پر مامور کئے گئے کہ وہ مولوی صاحب کی خدمت میں یہ پیشکش کریں چنانچہ انہوں نے مولوی صاحب موصوف کو جماعت کے اس فیصلہ سے آگاہ کیا۔یہ سن کر مولوی صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں اس امر کا تذکرہ کرتے ہوئے افسوس کا اظہار فرمایا کہ چند سکوں کی صورت میں جماعت نے ان کی دینی خدمات کا صلہ دینا چاہا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت نے ان کی امامت کی قدر و قیمت کو نہیں پہچانا۔آپ مجھے۔۔۔صلہ میں یہ چند سکے دینا چاہتے ہیں حالانکہ امامت کا صلہ تو خدا کا وصال ہے۔۔۔مجھے خدا تعالیٰ نے بہت کچھ دیا ہے اور وہی میرا رازق ہے۔تم لوگ میرے رازق بننے کی کوشش نہ کرو۔غرض آپ کو اس بات سے ناراضگی پیدا ہوئی اور جب تک آپ سیالکوٹ میں رہے خالصہ بوجہ للہ سلسلہ کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔“ کتاب کے آخر میں حضرت ماسٹر علی محمد صاحب بی اے بی ٹی اور حضرت ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب کا مٹی ( جو حضرت مولوی فیض الدین صاحب کے داماد تھے ) کا مختصر تعارف اور حضرت مولوی صاحب کا شجرہ نسب اور ان کی اولا د کا بھی ذکر ہے۔(روز نامہ الفضل 2 جولائی 1996 ء ) 124