برگِ سبز

by Other Authors

Page 69 of 303

برگِ سبز — Page 69

برگ سبز مذکورہ دونوں بزرگ خواتین کی سیکرٹری تھیں۔اس لئے اس خاکسار کو بھی ان بزرگوں کے ہاں آنے جانے کے بہت مواقع ملتے تھے۔خاکسار نے کلام پاک پڑھنا شروع کیا تو حضرت مصلح موعودؓ سے بسم اللہ کروانے کی درخواست کی گئی جو الحمد للہ منظور ہوئی اس طرح اس جاہل کی تعلیم میں حضرت مصلح موعود جیسی عظیم شخصیت بھی شامل ہوگئی گو بعد میں تو کلام محمود اور آپ کی شاندار علمی تصانیف سے بہت کچھ پڑھا اور سیکھا۔قرآن مجید تو ہم سب بہن بھائیوں کو ہماری والدہ محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ نے پڑھایا اور اس پیار سے پڑھایا کہ ہمیشہ کے لئے پڑھنے کی لگن لگ گئی۔تعلیم الاسلام پرائمری سکول میں داخلہ ملا۔ابتدائی اساتذہ ماسٹر شاہ محمد صاحب ، ماسٹر نواب دین صاحب، ماسٹر عبدالعزیز صاحب، ماسٹر حسن محمد صاحب، ماسٹر اللہ بخش صاحب تھے۔ابتدائی تین اساتذہ تو سائیکلوں پر قریبی گاؤں تلونڈی سے پڑھانے آتے تھے۔پانچویں جماعت کے بعد چھٹی جماعت میں جانے کی خوشی میں یہ امر بھی شامل تھا کہ اب ہم تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عظیم الشان عمارت میں جایا کریں گے۔ہماری یہ خوشی چند روزہ ہی ثابت ہوئی کیونکہ انہیں دنوں تعلیم الاسلام کالج شروع ہو گیا اور اس عالی شان عمارت میں کالج کی تعمیر شروع ہو گئی اور ہم واپس اسی سکول میں آگئے جسے پہلے پرائمری سکول کہا جاتا تھا اور بعد میں کچھ نئی عمارت کی تعمیر کے بعد وہی عمارت ہائی سکول میں تبدیل ہو گئی۔ہائی سکول میں اس زمانہ میں ایسے مشاہیر اساتذہ تھے کہ جو قادیان یا سکول ہی نہیں بلکہ علمی دنیا میں بھی کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔سب اساتذہ کے نام تو شاید یاد نہ آئیں مگر ماسٹر چراغ محمد صاحب، ماسٹر رحمانی صاحب، چوہدری عبدالرحمان صاحب، چوہدری اللہ بخش صاحب، المعروف زراعتی صاحب اور مرزا احمد شفیع صاحب کے اسماء گرامی فوری طور پر ذہن میں آ 69