برگِ سبز — Page 57
برگ سبز یہ تھا کہ بچپن کا اکثر حصہ مسجد مبارک کے سائے میں بلکہ الدار کے ایک حصہ میں گزارنے کی سعادت ملی۔اب احمد یہ چوک کا کچھ ذکر ہو جائے۔قادیان کی پرانی آبادی میں دو بازار تھے۔ایک بڑا بازار کہلاتا تھا ، دوسرا احمد یہ بازار کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔بڑے بازار میں بالعموم غیر مسلموں کی دکا نہیں تھیں۔حکیم ملا وامل صاحب کی دکان اسی بازار میں تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا ذکر اپنی کئی کتب میں فرمایا ہے۔خدائی نصرت کے کئی نشانات کے گواہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اپنی شادی کے سلسلے میں دہلی تشریف لے گئے تو یہ صاحب بھی ہمراہ تھے یا یوں کہہ لیجئے کہ بارات میں شامل تھے۔ذکر بڑے بازار کا تھا۔یہ بازار مسجد اقصیٰ تک پہنچ کر چھوٹی چھوٹی گلیوں میں تقسیم ہو جاتا تھا۔ایک گلی یا تنگ بازار پرانے اڈے کی طرف جاتا تھا۔ایک گلی مسجد اقصیٰ کے عقب میں پرانی آبادی کی طرف چلی جاتی تھی۔ایک گلی مسجد اقصی کے ساتھ ساتھ سے نکلتی ہوئی احمد یہ بازار کی طرف چلی جاتی تھی۔اسی رستہ پر وہ بڑی عمارت تھی جو مسجد اقصیٰ سے متصل کسی ہندو کی تھی۔وہ ہندو مسجد اقصیٰ میں احمدیوں کی عام آمد ورفت اور کبھی ان کی چھت کو استعمال کرنے کی وجہ سے اکثر ناراض رہتے تھے۔مگر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ حضرت مسیح موعود کے ارشاد کے مطابق یہ عمارت احمدیوں کے قبضہ میں آگئی اور اپنے بچپن میں ہم نے اس میں احمد یہ دفاتر دیکھے تھے۔( غالباً اب یہ عمارت مسجد اقصیٰ میں شامل ہو چکی ہے )۔مسجد اقصیٰ کے ساتھ ساتھ نکلنے والی اس گلی میں آگے چل کر الدائر شروع ہوجاتا تھا اور مسجد مبارک آجاتی تھی۔مسجد مبارک سے ایک بازار یا سڑک نکلتی تھی جو احمد یہ بازار کہلاتی تھی۔اس جگہ کو جہاں احمد یہ بازار اور مسجد اقصیٰ سے آنے والی گلی ختم ہوتی تھی ، احمد یہ چوک 57