برگِ سبز — Page 262
برگ سبز کے داماد مکرم ریاض خان صاحب اور بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ شب قدر گئے۔جب تینوں وہاں عدالت میں پہنچے تو مخالفین کا بڑا ہجوم جو پہلے سے وہاں جمع تھا انہوں نے ان تینوں دوستوں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں مکرم ریاض خان صاحب موقع پر ہی شہید ہو گئے۔اس سارے واقعہ میں ملاؤں اور ان کے ہم نواؤں کی درندگی بہت نمایاں ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور سرکاری انتظامیہ کی ملی بھگت اور اس ظلم میں شراکت بھی واضح ہے۔ایک معصوم احمدی کو سراسر نا جائز طور پر پہلے شر پسندوں سے حفاظت کے نام پر اپنی تحویل میں رکھا اور پھر الٹا اسی کے خلاف نقض امن کا مقدمہ دائر کر دیا اور پھر بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ عدالت کے احاطہ میں وحشی صفت ملاؤں نے حکومت کے اعلیٰ افسروں کے سامنے نہایت بہیمانہ طور پر پتھروں سے حملہ کر کے ضمانت کیلئے آنے والے تین افراد میں سے ایک کو شدید زخمی اور دوسرے کو موقع پر ہی شہید کر دیا اور انتظامیہ کچھ نہ کرسکی۔جہاں تک شہید مرحوم کا تعلق ہے تو وہ تو راہ مولیٰ میں اپنی جان فدا کر کے عند اللہ جاودانی زندگی پاگئے اور ہمیں یقین ہے کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔خوں شہیدانِ امت کا اے کم نظر ، رائیگاں کب گیا تھا کہ اب جائے گا ہر شہادت ترے دیکھتے دیکھتے، پھول پھل لائے گی پھول پھل جائے گی جہاں تک مخالفین احمدیت کا تعلق ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اس قسم کی ظالمانہ حرکتوں سے وہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی ترقی کو روک سکیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے اس سے پہلے کب ان کی ایسی حرکتوں سے مرعوب ہو کر جماعت کی ترقی رکی ہے، جواب رکے گی۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : یہ لوگ یاد رکھیں کہ ان کی عداوت سے اسلام کو کچھ ضر ر نہیں پہنچ سکتا۔262