برگِ سبز — Page 254
برگ سبز نے آپ کی خدمت میں تمام حالات پیش کر کے اور متوقع خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے جلسہ میں شامل ہونے سے روکنا چاہا۔مگر حضرت صاحب اپنے پروگرام پر فاذا عزمت فتوكل على الله (جب تو عزم کرلے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کر) کا مظاہرہ کرتے ہوئے پتھروں کی بارش میں سے ہوتے ہوئے جلسہ گاہ میں پہنچ گئے۔باوجود اس کے کہ احمدی فدائی حضرت صاحب کے ارد گرد پروانہ وار شار ہونے کیلئے ہر وقت موجود رہے۔تین پتھر حضرت صاحب کو بھی لگے، جبکہ دوسرے متعدد افراد بھی زخمی ہوئے۔اس فساد انگیزی اور ہنگامہ آرائی کے دوران حضرت صاحب نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں فرمایا: وو جوش کی باتیں عارضی ہوتی ہیں۔دنیا میں جو شخص کام کرنے کیلئے کھڑا ہو ، آج جو اسے پتھر مارتے ہیں کل کو ضرور وہی اس پر پھول برسائیں گے۔جون آف آرک ایک فرانسیسی عورت تھی جس نے اپنے ملک کو آزاد کرایا تھا، اس کو اپنے زمانہ میں اس قدر تکلیف دی گئی کہ خود اس کے ابنائے وطن نے اسے پکڑ کر انگریزوں کے حوالے کر دیا۔جو لوگ دوسروں کی خاطر پتھر کھاتے ہیں ان پر ضرور پھول برستے ہیں۔یہ جو پتھر آج پھینکے گئے ہیں یہ خدا تعالیٰ نے اس لئے پھینکوائے ہیں کہ کل کو پھول بن کر ہمیں لگیں۔یہ پتھر بھی جن لوگوں نے مارے ہیں انہوں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ کشمیر کی طرف سے مارے ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ ریاست کے علاقے پر رعایا کوقبضہ دے دیا۔واللہ کے فضل سے ہم امید کرتے ہیں وہ مظلوم جو سینکڑوں سال سے ظلم وستم کا شکار ہورہے ہیں ان کی آہیں اور سسکیاں آسمان پر جا پہنچیں اور خدا تعالیٰ نے ظالموں سے ظلم کی آخری اینٹیں پھینکوا ئیں تا اس ملک پر اپنا فضل نازل کرے۔لیکن ہمارا قلب 254