برگِ سبز — Page 200
برگ سبز کے مندرجہ ذیل ارشاد سے ہوتا ہے: میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں تحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں وہ اپنی زندگیاں براہ راست میرے سامنے وقف کریں تا کہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ تبلیغ کا کام کر سکیں۔ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں ہے۔لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا ہے۔پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کیلئے وقف کریں۔۔۔اور باہر جا کر نئے ربوے اور نئے قادیان بسائیں۔۔۔وہ جا کر کسی ایسی جگہ بیٹھ جائیں اور حسب ہدایت وہاں لوگوں کو تعلیم دیں۔لوگوں کو قرآن کریم پڑھائیں اور اپنے شاگر د تیار کریں جو آگے اور جگہوں پر پھیل جائیں۔“ (الفضل 6 فروری 1958ء) اسی طرح حضرت صاحب فرماتے ہیں: یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اور ضرور پورا ہوکر رہے گا۔میرے دل میں چونکہ خدا تعالیٰ نے یہ تحریک ڈالی ہے۔اس لئے خواہ مجھے اپنے مکان بیچنے پڑیں۔کپڑے بیچنے پڑیں میں اس فرض کو تب بھی پورا کروں گا۔خدا تعالی۔۔۔۔میری مدد کے لئے فرشتے آسمان سے اتارے گا۔(الفضل 7 جنوری 1958ء) اس یقین اور وثوق اعتماد اور توکل علی اللہ سے جاری ہونے والی سکیم جس طرح قدم بقدم آگے بڑھی اور جس طرح شیر میں ثمرات کی حامل ہوئی اس کا ایمان افروز تذکرہ حضرت مرزا 200