برگِ سبز — Page 94
برگ سبز ہوئے ہیں جس میں داخل ہونے کی غرض محض یہی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے خدمت گزار غلام بن جائیں اور اس کا قرب حاصل ہو۔مگر صرف اس مدرسہ میں ہمارا داخل ہونا ہمیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔جب تک ہماری کوششیں اس غرض کے حصول کیلئے انتہائی نقطہ پر نہ پہنچ جائیں اور جب تک ہم پورے طور پر جد و جہد نہ کریں تب تک ہم سچے طور پر خدا کے غلام کہلانے کے مستحق نہیں ہو سکتے۔“ ( الفضل 22 فروری 1927 ء ) خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے فوائد و ثمرات بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ”ہماری جماعت کے لوگوں کو اپنے اندر روحانی دروازے اور کھڑکیاں کھولنی چاہئیں تا ان کے ظاہر کے ساتھ باطن مل جائے اور جب یہ حالت پیدا ہو جائے تو ایسا انسان ہر چیز پر غالب آجاتا ہے اور کہیں کا کہیں جا پہنچتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا کفیل ہو جاتا ہے اور یہی وہ اصل روحانی مقام ہے جس کیلئے ہر مومن کو کوشش کرنی چاہئے اور جب تک یہ حالت پیدا نہ ہوا ایمان کامل نہیں ہوتا۔ہمیں اپنے آپ کو احمدیت کا عمدہ پھل بنانا چاہئے۔“ (الفضل 17 جون 1946 ء ) جماعت کی روحانی ترقی کیلئے محبت الہی کے حصول کی طرف نہایت دردمندی سے توجہ دلاتے ہوئے آپ بنی یہ فرماتے ہیں: دو مجھے تمہاری حالتوں کو دیکھ کر جنون کی سی حالت ہو جاتی ہے۔ایک چھوٹا بچہ جنگل میں اپنی ماں سے جدا نہیں ہوتا۔میں بھی تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس خدا سے جو ماں سے بھی زیادہ محبت کرنے والا ہے تم جدا نہ ہو۔میں نے آدھی دنیا کا 94