برگِ سبز — Page 93
برگ سبز حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد علی انہ ایک دوست کو جو اپنی فطری سعادت کی وجہ سے جماعت میں شمولیت کی سعادت حاصل کر رہے تھے نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: تقویٰ اللہ کو اپنا شعار بنا ئیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا کریں۔اللہ تعالیٰ کی محبت سب دکھوں اور تکلیفوں اور جسمانی وروحانی بیماریوں کا علاج ہے۔“ اس بنیادی مقصد کے حصول کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کے مطابق حضرت مسیح موعود علایکا نے ایک جماعت قائم کی۔خدا کے بندوں کو اس کی طرف بلا یا اور جمع کیا تاوہ اللہ تعالیٰ کے خدمت گزار بندے بن جائیں۔ہم لوگ بھی اس کی جماعت میں اسی لئے داخل ہوئے ہیں کہ ہم خدا کے خدمت گزار بندوں میں شامل ہوں۔لیکن اس خدمت گزاری کیلئے کچھ شرائط ہیں۔اگر وہ شرائط پوری نہ کی جائیں اور ان پر نہ چلا جائے تو پھر صرف خدمت گزار کہلانے سے تو کچھ فائدہ نہیں حاصل ہوگا۔جب تک ان شرائط کو پورا نہ کیا جائے تب تک ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔دیکھو سکول میں داخل ہونے سے ایک شخص طالب علم تو کہلا سکے گا لیکن اگر وہ داخل ہونے کی غرض کو مدنظر نہ رکھے گا اور علم کے حصول کی کوشش نہ کرے گا تو اسے صرف طالب علم کہلانے سے اور سکول میں داخل ہو جانے سے علم نہیں حاصل ہو جائے گا اور نہ وہ عالم کہلائے گا۔بہت سے لڑکے ہوتے ہیں جو کہلاتے تو طالب علم ہیں لیکن سارا وقت بجائے علم کے حصول کے جہالت کے حصول میں خرچ کر دیتے ہیں۔کیا وہ صرف طالب علم کہلانے یا سکول میں داخل ہونے سے عالم کہلانے کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔اسی طرح ہم بھی ایک مدرسہ میں داخل 93