برگِ سبز — Page 65
برگ سبز خوب رقت طاری ہوئی اور میں نے رو رو کر دعا کی کہ اے خدا مجھے اکیلا نہ رہنے دینا۔دعا کر کے دل میں سکون سا پیدا ہوا۔کمرے سے باہر نکلا۔ہجوم کا اس نظر سے جائزہ لیا کہ ان میں جو معقول صورت شریف آدمی نظر آئے ، اس سے دوستی کی جائے اسے تبلیغ کی جائے اور اس طرح جماعت سے محرومی کا ازالہ کیا جائے۔کچھ دیر جائزہ لینے کے بعد میری نظر نے ایک صاحب کو منتخب کر لیا۔میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں اور پھر میں نے گفتگو کو مذہبی اور تبلیغی رنگ دے دیا۔مجھے خوشی ہو رہی تھی کہ وہ صاحب میری باتیں پوری توجہ اور دلچسپی سے سن رہے ہیں۔کوئی گھنٹہ بھر باتیں ہوئی ہوں گی کہ وہ صاحب بڑے والہانہ انداز میں مجھ سے چمٹ گئے اور کہنے لگے کہ میں تو اللہ کے فضل سے احمدی ہوں آپ کی باتوں سے مزہ لے رہا تھا اس لئے فوراً ہی آپ کو نہیں بتا یا تھا۔حضرت قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ پھر ہماری نمازیں با جماعت شروع ہوگئیں۔سلسلہ کی کچھ کتب ان کے پاس تھیں کچھ میں بھی ساتھ لایا تھا۔درس وغیرہ کا روح پرور اور ایمان افروز سلسلہ شروع ہو گیا۔(خاکسار کو یاد نہیں آرہا کہ مکرم قاضی صاحب نے اپنے اس نو دریافت احمدی کا نام بتایا تھا یا نہیں۔بہر حال ان کا نام خاکسار کو معلوم نہیں ہے ) اپنے اسی سفر کے سلسلے میں قاضی صاحب نے فرمایا کہ ہم اپنی روز مرہ کی خدمات اور ذمہ داریاں بجالا رہے تھے زندگی کافی حد تک ایک معمول پر آ گئی تھی۔کچھ عرصہ کے بعد ہم نے سنا کہ ہمارے یونٹ میں ایک مسلمان ڈاکٹر آ رہے ہیں طبعاً سب مسلمانوں کو خوشی ہوئی کیونکہ اس زمانہ میں ڈاکٹر عام طور پر انگریز ہی ہوتے تھے یا پھر چند ہندو ڈاکٹر تھے، لہذا مسلمان ڈاکٹر کا بہت بے چینی سے انتظار ہونے لگا۔خدا خدا کر کے ڈاکٹر صاحب آئے۔ان کی شکل بالکل انگریزوں کی طرح تھی اور رعب و دبدبہ بھی بہت تھا۔ایک روز ڈاکٹر صاحب 65