برگِ سبز — Page 37
برگ سبز طے کر لیں۔جب خاکسار کو پتہ چلا تو میں نے انہیں بتایا کہ اس قسم کے پروگرام کیلئے پہلے سے علم ہونا چاہئے بلکہ باقاعدہ اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔تاہم چونکہ اس پروگرام کی آپ کے ماحول میں تشہیر بھی ہو چکی ہے لہذا میں حاضر ہو جاؤں گا۔شرائط میں یہ بات بھی موجود تھی کہ دونوں طرف سے 20-20 آدمی موجود ہوں گے۔وفات مسیح علیہ السلام پر بحث ہوگی۔بحث قرآن مجید کی روشنی میں ہوگی وغیرہ۔جب وقت مقررہ پر سب لوگ ان کے ہاں پہنچ گئے تو نشست فرشی تھی، ہم بیٹھے ہی رہے تھے کہ ایک آواز آئی کہ پہلے دعا کر لینی چاہئے۔خاکسار نے بیٹھتے ہی بلا توقف دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھا کر بآواز بلند درود شریف پڑھ کر دعا شروع کر دی۔ان لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ہماری اقتدا میں دعا کرنے لگے۔خاکسار نے ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله (الانعام: ١٠٩ ) والی ۱۰۹ آیت پر ان سے پوچھا کہ یہاں غیر اللہ کو اللہ پکارنے کا ذکر ہے کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کر کے پکارا جاتا ہے؟ وہ صاحب اپنی باری پر اور باتوں کا ذکر تو کرتے رہے مگر اس سوال کے جواب سے گریز کر گئے۔خاکسار نے دوسری اور پھر تیسری باری پر بھی اپنا سوال دہرایا اور باصرار ان سے جواب پوچھا تو ان کو یہ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو غلط طور پر اللہ پکارا جاتا ہے۔اس کے بعد نتیجہ نکالنا کوئی مشکل نہیں تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔ہمارے میزبان ( ان کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں آ رہا ) بہت خوش تھے۔وہ کہہ رہے تھے کہ جس طرح آپ نے دعا شروع کی تھی ، آدھا کام تو اس وقت ہی ہو گیا تھا اور یہ بھی آج پتہ چلا ہے کہ احمدی علم کلام سے لوگ کس طرح لا جواب ہونے پر مجبور ہوتے ہیں۔غرضیکہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت پر شکر ادا کرتے ہوئے یہ مجلس اختتام کو پہنچی۔37