برگِ سبز — Page 36
برگ سبز سے ملنے کیلئے گئے تو انہوں نے وہاں با قاعدہ مناظرہ کی مجلس بنائی ہوئی تھی۔تمام اساتذہ اور شہر کے بعض اکابر بیٹھے تھے۔معلوم ہوا کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کے متعلق قصبہ میں مشہور ہے کہ وہ احمدی ہیں۔ہیڈ ماسٹر صاحب اس غلط فہمی کو دور کرنا چاہتے تھے اور اسی غرض سے انہوں نے ہم سے گفتگو اور شہریوں کو بلانے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ان سے مختلف مسائل پر بات ہوئی۔وہاں بڑے اہتمام سے عربی کے استاد صاحب کو بھی بٹھایا گیا تھا۔خاکسار نے دوران گفتگو عرض کیا کہ حضور صلی ایم کے ارشاد الا ان يكون نبیا“ سے معلوم ہوتا ہے کہ کان يكون تکوین میں اسی اُمت سے کسی کے پیدا ہونے اور آنے کا ذکر ہے۔کسی غیر امتی یا پرانے نبی کے آنے کا ذکر نہیں ہے۔عربی کے استاد فوراً بولے کہ قرانی محاورہ میں اللہ تعالیٰ کے متعلق کان کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔کیا اس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی پیدا ہوتا ہے۔نعوذ باللہ۔موقع کی نزاکت کے لحاظ سے خاکسار نے فوراً جواب دیتے ہوئے بڑی جرات سے کہا که مولوی صاحب آپ یہی عربی اپنے شاگردوں کو سکھاتے ہیں۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ کان کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔۔۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مولوی صاحب بلکہ اور حاضرین پر بھی کچھ ایسا اثر ہوا کہ بات چیت کا رنگ ہی بدل گیا اور مناظرہ کی بجائے ہیڈ ماسٹر صاحب ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس کے بعد سارا عرصہ مولوی صاحب بالکل خاموش بیٹھے رہے۔ملتان چھاؤنی میں ہمارے ایک احمدی دوست دوکاندار تھے۔سفید رنگت ، خوبصورت چہرہ ،سفید داڑھی اور پگڑی کے اہتمام اور تبلیغ کے شوق کی وجہ سے بہت پیارے اور اچھے لگتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے ہمارے علم کے بغیر اپنے ہاں گفتگو کا اہتمام کیا اور شرائط وغیرہ بھی 36