برگِ سبز

by Other Authors

Page 34 of 303

برگِ سبز — Page 34

تھا۔تاہم ان کی مسکراہٹ قابل دید تھی۔برگ سبز کراچی کے بعد خاکسار کو ملتان میں خدمت بجالانے کی سعادت حاصل ہوئی۔کراچی میں جماعت کی مستعدی کی وجہ سے خدمت کے مواقع خوب ملتے تھے۔ملتان کو یہاں کے مدرسوں کی وجہ سے خاص مقام حاصل ہے۔قریباً تمام اسلامی کہلانے والی جماعتوں کے اہم مراکز اور مدارس وہاں ہیں، اس وجہ سے وہاں بھی خوب وقت گزرا۔سب واقعات تو یاد بھی نہیں ہیں اور ویسے بھی بات لمبی ہو جاتی ہے۔مختصر طور پر دلچپسی کے بعض امور درج ذیل ہیں: ملتان کے دیہات کے دورہ کے سلسلہ میں خاکسار ایک گاؤں میں گیا۔پتہ چلا کہ وہاں ایک ہی برادری کے لوگ رہتے ہیں۔آدھا گاؤں احمدی ہے اور باقی آدھا گاؤں احمدی نہیں ہے۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہاں ایک بڑی مسجد ہے اور ایک مولوی صاحب بھی موجود ہیں اور اگر ان کو بلایا جائے تو وہ ضرور آجائیں گے۔نماز سے قبل ان کو بلانے کیلئے آدمی بھیجا گیا۔ہم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ تشریف لے آئے۔سردیوں کے دن تھے مولوی صاحب نے کھیں کی بُکل ماری ہوئی تھی۔ہم نے ان کا استقبال کیا خاکسار نے کہا کہ آپ کو یہاں گاؤں میں بہت بڑا مقام حاصل ہے۔گاؤں والوں کو جب بھی کوئی مشکل ہوتی ہے یا جب بھی کوئی مسئلہ پوچھنا ہوتا ہے تو وہ آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور وہ آپ کی بات کو اسلام کی تعلیم یا خدا اور رسول کی بات سمجھتے ہیں۔مولوی صاحب ان باتوں پر خوب خوش نظر آتے تھے۔خاکسار نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک ہی برادری کے لوگ رہتے ہیں احمدی تو میری بات مانتے ہیں اور دوسرے لوگ آپ کی بات مانتے ہیں (اپنے آدمیوں سے خاکسار نے پوچھا تو انہوں نے بآواز بلند کہا کہ ہم آپ کی بات ضرور مانیں گے ) کیوں نہ ہم دونوں ایک معاہدہ کر لیں اور 34