برگِ سبز — Page 33
برگ سبز کراچی میں بہائیوں کا مرکز بھی تھا۔خاکسار وہاں اکثر جاتا تھا۔ان سے گفتگو کا موقع بھی ملتا تھا۔اس وقت ان کے جوا کا بر تھے ان میں سے اکثر سے وہاں ملاقات ہوئی۔مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہتی تھی جن میں بالعموم یہ بات ضرور آجاتی تھی کہ آپ لوگ قرآن مجید کی بجائے جس شریعت پر عمل کرتے ہیں اسے پوشیدہ کیوں رکھتے ہیں۔وہ حسب موقع کوئی جواب دیتے تھے مگر اس موضوع پر انہیں لا جواب ہی ہونا پڑتا تھا۔ایک دفعہ بہت ہی زچ ہو کر ان میں سے ایک صاحب کہنے لگے کہ ٹھیک ہے میں اگلے ہفتہ آپ کو اقدس (ان کی شریعت کی کتاب) لا دوں گا۔اگلے ہفتہ وہ ایک کتاب لے کر آئے اور اپنے ہاتھ میں لئے لئے دکھا کر کہنے لگے کہ یہ وہ کتاب ہے جس کے متعلق آپ اکثر سوال کیا کرتے ہیں۔اب آپ نے یہ کتاب دیکھ لی ہے۔امید ہے آئندہ آپ یہ سوال نہیں کریں گے۔خاکسار نے عرض کیا کہ کتاب تو دیکھنے پڑھنے کیلئے ہوتی ہے۔آپ کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر تو میں نہ اسے دیکھ سکتا ہوں نہ پڑھ سکتا ہوں۔اس طرح تو دیکھنا نہ دیکھنا برابر ہے اور میرا سوال اسی طرح ہے جس طرح پہلے ہوتا تھا۔اس پر انہوں نے بادل نخواستہ یہ کہہ کر کتاب مجھے تھما دی کہ آپ یہاں بیٹھے بیٹھے اسے دیکھ سکتے ہیں۔میں نے کتاب دیکھ کر انہیں بتایا کہ یہ تو بمبئی کی آپ کے مخالفوں کے ہاں سے چھپی ہوئی ہے۔یہ تو آپ کی مصدقہ کتاب نہیں ہو سکتی۔اور باتوں کے علاوہ انہوں نے پھر اپنی بات دہرائی کہ اب آپ یہ اعتراض تو نہیں کر سکتے کہ آپ کو کتاب دکھائی نہیں گئی۔خاکسار نے عرض کیا کہ جناب اب تو میرا سوال پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گیا ہے کیونکہ آپ کے با اختیار شارح اور لیڈ ر عبد العباس نے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اس کتاب کو شائع نہیں کرنا۔۔۔آپ نے ان کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مجھے یہ کتاب کیوں دی ہے اور کیوں شائع کی ہے۔ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں 33