برگِ سبز

by Other Authors

Page 32 of 303

برگِ سبز — Page 32

برگ سبز رہتے تھے۔ان میں چند نوجوان احمدی بھی تھے۔وہ مختلف مسائل کے متعلق خاکسار سے پوچھتے رہتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے ذکر کیا کہ ہمارے ساتھی نوجوانوں نے کسی مولوی صاحب کو دعوت دی ہوئی ہے، اگر آپ بھی وہاں آسکیں تو ہمارے لئے مفید رہے گا۔خاکسار کے ساتھ ایک نوجوان پادری صاحب بھی تھے۔وہ مولوی صاحب کسی معروف جماعت سے نہیں تھے اور ان کا کہنا یہ تھا کہ آنحضرت مال ہی تم بھی دوسرے انبیاء کی طرح ایک نبی ہی تھے۔ہم بلا وجہ انہیں افضل النبی مقرار دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے آنحضرت سالی سیستم کی فضیلت ثابت کی اور الحمد للہ سب موجودا افراد کیلئے بہت خوشی کی بات تھی۔ایک اور قابل ذکر بات یہ بھی ہوئی کہ غیر از جماعت نو جوانوں کو جب معلوم ہوا کہ میرے ہمراہ ایک پادری صاحب ہیں تو وہ ان کے سامنے اسلام کی فضیلت بیان کرنے لگے۔باتوں باتوں میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید ایک ایسا معجزہ ہے کہ اس میں کبھی کوئی غلطی راہ نہیں پاسکتی۔اگر اس میں کوئی زیر یا زبر کی غلطی ہو جائے تو وہ خود بخو دور ہو جاتی ہے۔وہ پادری صاحب کہنے لگے کہ یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے۔میں مسلمان نہیں ہوں۔میں ایک دو جگہ زبر کی جگہ زیر کر دیتا ہوں پھر اس قرآن کو کسی محفوظ جگہ رکھ دیتے ہیں اور جو عرصہ آپ تجویز کریں اس کے بعد دیکھ لیں گے۔اگر آپ کے کہنے کے مطابق وہ غلطی از خود درست ہو گئی ہوگی تو میں فوراً مسلمان ہو جاؤں گا۔۔۔پادری صاحب کو موقع ملا اور وہ مسیحی مذہب کی سچائی اور فضیلت بیان کرنے لگے۔وہ نوجوان لاجواب ہوکر شرمندہ سے ہو رہے تھے خاکسار نے گفتگو میں دخل دینا چاہا تو وہ پادری صاحب خود ہی کہنے لگے کہ آپ کی بات تو شروع ہی اس طرح ہوگی کہ حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور میرا سارا استدلال و ہیں ختم ہو جائے گا۔32