برگِ سبز

by Other Authors

Page 29 of 303

برگِ سبز — Page 29

برگ سبز بھائی حضرت چوہدری عبد اللہ خان صاحب تھے جو انتظامی امور کی مہارت کے ساتھ ساتھ دینی علوم کی مہارت بھی رکھتے تھے۔کراچی کے مربی حضرت مولانا عبد المالک خان صاحب تھے، جو اپنی غیر معمولی جماعتی خدمات اور خاندانی وجاہت کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتے تھے۔کراچی میں ایسے کارکن جماعتی عہدوں پر مامور تھے جو بالعموم جس با قاعدگی سے اپنے دفتروں میں جاتے تھے اسی باقاعدگی سے جماعتی کاموں میں بھی برابر حصہ لیتے تھے۔جماعت کراچی تعداد کے لحاظ سے ایک بڑی جماعت تھی اور بالعموم انصار ، خدام ، لجنہ اور اطفال کے علم انعامی اس کے حصے میں آتے تھے اور خوش قسمتی سے افراد جماعت کی مستعدی اور چوکسی کی وجہ سے خدمت کے مواقع بھی زیادہ ملتے تھے۔خاکسار کیلئے ربوہ سے باہر رہنے کا یہ پہلا موقع تھا۔اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے خاکسار نے غیر مسلموں میں تبلیغ کا پروگرام بنایا۔کراچی میں یہودی بھی پائے جاتے ہیں مگر وہ تبلیغی لحاظ سے زیادہ کھلتے نہیں ہیں۔ان کے متعلق واقفیت حاصل کرنے کی کوشش میں پتہ چلا کہ انہوں نے اپنی عبادت گاہ پر مسجد' لکھا ہوا ہے۔اس بات پر حیرت ہوئی کہ ہم اپنی مساجد کو اس نام سے پکاریں تو ملاؤں کو بہت ناگوار گزرتا ہے ،مگر یہودیوں کی عبادت گاہ پر مسجد کا لکھا ہونا ان کی غیرت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔خاکسار مسجد بنی اسرائیل، پہنچا ، ان کے مربی سے ملاقات ہوئی وہ کسی گفتگو کیلئے تیار نہیں تھے۔میرے اصرار پر انہوں نے مجھے اپنے پریذیڈنٹ کا پتہ دیا اور کہا کہ آپ ان سے ملکر بات چیت کر سکتے ہیں۔انہوں نے جو پتہ دیا وہ ہمارے احمد یہ ہال کے قریب ہی تھا۔میں ان کو ملنے گیا۔پہلے تو وہ کچھ حیران سے ہوئے کہ یہ اجنبی کون اور کیوں آیا ہے۔تاہم جب انہوں نے مجھے اپنی خوب سجی سنوری ہوئی بیٹھک میں بٹھایا تو وہاں میرے ایک پرانے 29