برگِ سبز

by Other Authors

Page 30 of 303

برگِ سبز — Page 30

برگ سبز جاننے والے بھی بیٹھے تھے۔میں نے اپنی آمد کا مقصد بتایا تو ان کی بجائے میرے جاننے والے نے قہقہ لگایا اور کہنے لگے کہ اسے میں بچپن سے جانتا ہوں، اسے مذہب کا کچھ پتہ نہیں ہے ایک اچھا اور امیر تاجر ہونے کی وجہ سے اسے عہد یدار بنالیا گیا ہے۔اس یہودی نے اس بات کا کوئی برا نہ منایا بلکہ ایک طرح سے اس کی تائید و تصدیق کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میرا اس سال کے آخر میں اسرائیل جانے کا ارادہ ہے وہاں سے معلومات حاصل کر کے آؤں گا پھر آپ اگر آئیں تو شاید میں آپ کے سوالوں کا جواب دے سکوں گا۔اس کے بعد ان سے ملاقات کی نوبت نہ آئی کیونکہ انہیں تبلیغ سے بالکل کوئی دلچسپی نہ تھی۔جیسا کہ سب جانتے ہیں عیسائیوں میں بہت سے فرقے ہیں۔ان میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو توریت کی بجائے اپنی دوسری کتابوں کو ترجیح دیتے اور تبلیغی لحاظ سے ان سے مدد لیتے ہیں۔ان کے بعض فرقے تبلیغی لحاظ سے بہت مستعد ہیں مگر عام عیسائی انہیں بدعتی اور غیر مسیحی سمجھتے ہیں جیسے یہوواہ وٹنسر میں عیسائی چرچوں میں جا کر گفتگو کرتا رہا۔اس سلسلہ میں بہت سے مسیحیوں سے واقفیت بھی ہو گئی۔اس زمانے میں مجلس خدام الاحمدیہ کراچی نے مارٹن روڈ میں ایک فری ڈسپنسری اور دارالمطالعہ بنایا۔عام لوگ وہاں استفادہ کیلئے آتے تھے۔میرا بھی وہاں آنا جانا رہتا تھا۔ایک دن میں وہاں گیا تو ہمارے بعض خدام نے بتایا کہ آج یہاں ایک عیسائی آیا تھا۔اس نے بہت اعتراض کئے اور ہم اس کو جواب نہیں دے سکے۔انہوں نے بتایا کہ اس نے تو سورہ بقرہ کی پہلی آیت پر ہی بہت سے اعتراض کئے اور ہم عربی سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اسے جواب نہیں دے سکتے تھے۔بہر حال خاکسار نے کہا کہ اس سے ملاقات کی کوئی صورت نکالیں۔۔۔۔اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے اسی طرح تیزی سے ایک کے بعد دوسرا 30