برگِ سبز — Page 286
برگ سبز اور جھگڑے ہیں۔ان کے اختلاف سے جماعت کے کاموں میں نقصان کے علاوہ غیر از جماعت لوگوں کو بھی باتیں بنانے کا موقع مل رہا ہے۔محترم امیر صاحب ضلع اور خاکسار مربی ضلع نے مل کر وہاں جانے اور اس معاملہ کو نمٹانے کا فیصلہ کیا۔متعلقہ جماعت کو اطلاع کر دی گئی۔ہم دونوں وہاں پہنچے ( خاکسار محترم امیر صاحب ضلع کا نام اس لئے نہیں لکھ رہا کہ وہ دنیوی اور دینی لحاظ سے اچھے سمجھدار اور با اثر انسان تھے۔ان کا نام لکھنے سے جماعت کا بھی پتہ چل سکتا ہے ) ہم دونوں نے تمام احباب جماعت سے ایک ایک کر کے علیحدگی میں ملاقات کی پھر ان کے گلے شکوے معلوم کر کے ان کو دور کرنے کی ایک عام جلسہ میں بھی کوشش کی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت معاملہ سدھر گیا۔باہم مصافحے ، معانقے اور مٹھائی کھانے کھلانے کی نوبت بھی آئی۔مگر اصل جھگڑا جہاں سے بات چلی تھی وہ بچوں کی لڑائی تھی اور بچوں کی لڑائی کے بعد صلح بھی ہو چکی تھی۔گویا ایک معمولی بات نے اتنا طول کھینچا اور جماعت کو نقصان پہنچایا۔ایسا ہی ایک اور واقعہ یاد آیا۔خاکسار مبورا مشرقی افریقہ میں تھا۔ایک دن سننے میں آیا کہ ایک احمدی خاتون جو کہ ایک معروف احمدی فیملی سے تعلق رکھتی تھیں گھر سے باہر کھڑی رو رہی ہیں۔محترم عبدالرشید رازی مرحوم اور خاکسار ہم دونوں ان کے ہاں گئے۔دیر تک ان کی باتیں سنتے رہے۔لڑائی جھگڑے اور اختلاف کی باتیں ختم ہونے میں ہی نہیں آرہی تھیں۔خاکسار کو لگا کہ ان دونوں کی طبائع میں باہم اختلاف تو ہے لیکن لڑائی جھگڑے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔میں نے اس محترمہ سے کہا کہ باتیں بہت ہو چکی ہیں اور بات کہیں ختم ہونے میں نہیں آتی۔آپ ذرا سوچ کر بتائیں کہ سب سے بڑی اور اصل وجہ اور خرابی کیا ہے۔وہ کچھ دیر خاموش رہیں۔پھر سوچ سوچ کر بولیں کہ میں نے ان سے کہا تھا کہ فلاں قسم کے 286