برگِ سبز — Page 283
برگ سبز ہے۔اور ہر عید جو آتی ہے وہ ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ بولو تم عید کیوں منا رہے ہو۔ہم بے شک ظاہر میں عید مناتے ہیں لیکن اس کےموجبات اور محرکات ہم میں موجود نہیں۔۔۔۔اگر مسلمان یہ کام کر سکتے ہیں تو ان کی عید ، عید ہے۔ورنہ ان کی عید کوئی عید نہیں۔پھر ہم کس چیز کی عید منا رہے ہیں۔یہ ایک سوال ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے نفس سے پوچھنا چاہئے۔اگر واقعہ میں ہم میں جانی اور مالی قربانی کی روح پائی جاتی ہے۔اگر ہم خدا تعالیٰ کے سامنے رو رو کر اس کی مدد طلب کرتے ہیں تو واقعی ہماری عید ، عید ہے۔اور ہم اللہ تعالیٰ اور رسول کریم الله السلام کے سامنے آنکھ اٹھانے کے قابل ہیں۔ورنہ ہماری عید کچھ بھی نہیں بلکہ ہر عید ہمیں پہلے سے بھی زیادہ مردہ بنا دے گی۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جولائی 1949 بمقام پارک ہاؤس کوئٹہ ) ( خطبات محمود جلد اول صفحہ 301-309) الفضل انٹرنیشنل 14 جنوری 2005ء ) 283