برگِ سبز — Page 231
برگ سبز کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جانے کیلئے ایک تیر رفتار مشاق موٹر ڈرائیور بھی ایک گھنٹہ سے زیادہ میں ہی کامیاب ہو سکے گا۔سڑک کو پار کرنے لگا تو دوسری طرف کالے برقعہ میں ملبوس تین خواتین نظر آئیں اور ابھی میں اپنی خوشگوار حیرت میں ہی تھا کہ دوسری طرف سے آواز آئی چچا جان سلام میں رہان صاحب کی بیٹی ہوں ، اتنی دیر میں خاکساران کے پاس پہنچ چکا تھا معلوم ہوا کہ برادر بزرگ مکرم مولانا نذیر احمد صاحب رہان کی بیٹی اور بہو جرمنی سے جلسہ میں شرکت کیلئے آئی ہیں۔اتنے بڑے شہر میں پاکستان اور جرمنی سے آئے ہوئے زائرین کی وہاں پہنچنے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر اس طرح اچانک ملاقات نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سلسلہ کے فروغ اور صداقت کی عجیب نا قابل بیان کیفیت پیدا کر دی۔میری رہائش گاہ قریب ہی تھی۔ان بچیوں کو میں اپنے ساتھ گھر لے گیا۔وہ میری اہلیہ اور بیٹی سے مل کر اور برادرم رہان صاحب کے بھیجوائے ہوئے پیغام کو وصول کر کے بہت خوش ہوئیں۔بات لمبی ہوتی جا رہی ہے اور ابھی جلسہ تو شروع بھی نہیں ہوا۔اور ہمارا جلسہ نصرت تائید الہی کا ایسا با برکت ہجوم ہوتا ہے کہ اس کا بیان واحاطہ ایک مجلس میں ہو بھی نہیں سکتا۔(روزنامه الفضل ربوہ 19 نومبر 1997ء) 231