برگِ سبز

by Other Authors

Page 223 of 303

برگِ سبز — Page 223

برگ سبز حاضر ہوا جو آخری دنوں میں یہاں خدمت کر رہے تھے۔لیکن بیعت نہیں کی تھی تقسیم ہند کے بعد میرا ایمان اٹھ گیا۔کیونکہ مجھے حضرت مسیح موعود کے الہامات میں کہیں یہ ذکر نہیں ملا کہ آپ کو قادیان چھوڑنا پڑے گا۔میں نے ان سے کہا کہ اگر داغ ہجرت سے آپ کو یہ پیغام نہیں بھی ملا اور آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سے مراد شاید آخری رحلت ہو، دنیا سے عقبی کا سفر ہو۔تو کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا کہ قادیان سے جانے کا ذکر نہیں تو قادیان میں آنے کا کیوں اتناذ کر ملتا ہے اور اس رنگ میں ملتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اسی بستی میں پیدا ہوئے یہاں بڑھے، یہاں نشو و نما پائی ، یہی احمدیت کا مرکز بنا اور آپ کو الہام اللہ تعالیٰ ایسے کر رہا ہے جیسے آپ قادیان سے باہر ہیں اور وعدے کر رہا ہے کہ ضرور لے کر آئے گا۔یہ حیرت انگیز مضمون ہے۔تمام الہامات میں قادیان آنے کے الفاظ نہیں ملتے۔قادیان جانے کےالفاظ ملتے ہیں۔حالانکہ جو شخص قادیان بیٹھا رؤیا دیکھ رہا ہے اس کو یہ نظر آنا چاہئے تھا کہ میں باہر سے قادیان واپس آرہا ہوں۔یعنی میرا مقام قادیان ہے اور میں واپس لوٹ رہا ہوں۔یہ نظر آنا چاہئے۔ایک بھی جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طرح اس نقشے کو نہیں کھینچا بلکہ یہ اظہار فرمایا میں قادیان جارہا ہوں اور رستے میں روکیں ہیں اور خدا تعالیٰ نے مختلف رنگ میں آپ کو آئندہ آنے والی خبریں عطا فرمائیں۔ایک الہام تھا: ”مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ “۔جس کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ دو دو تین تین چار چار مرتبہ۔لیکن اس کے ساتھ اُردو میں یہ الہام ہوا اب تو امن اور برکت کے ساتھ اپنے گاؤں میں جائے گا اور میں تجھے پھر بھی یہاں لاؤں گا۔“ 223