برگِ سبز — Page 213
وو برگ سبز ہوئے احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے کا فیصلہ کیا اور مذہبی سیاستدانوں کی یقین دہانیوں کی وجہ سے یہ سمجھ لیا کہ وہ پاکستان کے ہمیشہ کے لئے ہر دلعزیز حکمران بنے رہیں گے تو دنیا نے دیکھا کہ نہ صرف یہ کہ وہ ایک عبرتناک انجام سے دو چار ہوئے بلکہ ان کی پارٹی بھی کبھی وہ مقام حاصل نہ کر سکی جو اس فیصلہ سے پہلے اسے حاصل تھا۔اس فیصلہ سے پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا۔مذکورہ کالم میں ایک فوجی آمر کی سیاست و حکومت کا تجزیہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے:۔۔۔بر ملا تو اس کا کوئی بھی اظہار نہیں کرے گالیکن یہ واقعہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے بعد فوجی قیادت یا سیاسی حکومتیں سب کو مذہبی سیاستدانوں کی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے ساتھ سمجھوتے کرنے پڑے۔انہی سمجھوتوں کا نتیجہ ہے کہ نہ تو پاکستان میں جمہوریت آسکی اور نہ ہم جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سماجی اور معاشی ترقی کے راستے پر چل سکتے ہیں۔۔؟ اپنے کالم کے آخر میں انہوں نے موجودہ نیم فوجی حکومت کے متعلق لکھا ہے کہ: ” جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنے آپ کو سیاست میں فطری اتحادیوں سے دور کر لیا ہے۔مذہبی سیاستدانوں کے مطالبات مان کر وہ عالمی تائید وحمایت سے بھی محروم ہو جائیں گے۔۔۔۔انتہاء پسندی کا زہر معاشرہ میں سرایت کر جائے تو پھر یہ بڑی مشکل سے نکلتا ہے۔اعصابی نظام ہل کر رہ جاتا ہے۔جسم کے رگ پٹھے جھنجلاتے اور ہڈیوں کا گودا پگھل جاتا ہے۔مذہبی انتہاء پسندی کے شکنجے سے نکلتے ہوئے یورپ اس کیفیت سے گزر چکا ہے ہمیں گزرنا ہوگا۔“ یورپ اس شکنجہ سے اس احساس کی وجہ سے نکلا ہوگا کہ اس کی موجودگی میں کسی ترقی و ،، 213