برگِ سبز — Page 202
برگ سبز ہوں اور بندگان خدا کو دعوت حق کریں تا حجت اسلام روئے زمین پر پوری ہو لیکن اس ضعف اور قلت جماعت کی حالت میں ابھی یہ ارادہ کامل طور پر انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔(روحانی خزائن جلد 4 نشان آسمانی ص 408) اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وقف جدید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک خواہش کو پورا کرنے کی غرض سے جاری کی گئی۔یہ کون نہیں جانتا کہ نبی کی خواہش ایک عام انسان کی خواہش کی طرح نہیں ہوتی بلکہ ان کے دل کے میلانات اور آرزوئیں اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اور بار یک دربار یک حکمتوں پر مبنی ہوتی ہیں پس ایک طرف اس خواہش کا 80 برس قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں پیدا ہونا اور دوسری طرف ہماری آنکھوں کے سامنے وہ حالات پیدا ہو جانا جو بڑی شدت سے نظام وقف جدید کا تقاضا کر رہے تھے۔اس تحریک کا پس منظر بتاتے ہیں اللہ تعالیٰ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة امسیح الثانی " پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام خواہشات آپ کے زمانہ میں یا پوری ہوئیں یا ان کی بنیاد میں رکھی گئیں۔وقف جدید کی بنیاد بھی اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق آپ ہی کے مبارک ہاتھوں رکھی جانی مقدر تھی۔چنانچہ 1958ء میں آپ نے اس انجمن کے قیام کا اعلان کرتے وقت فرمایا: پشاور سے کراچی تک رشد و اصلاح کا جال پھیلایا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ الفاظ پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس آرزو پر جس کا ذکر اوپر گزرچکا ہے لبیک لبیک کہہ رہے ہوں۔“ (روزنامه الفضل ربوہ 22 اگست 1995ء) 202