برگِ سبز

by Other Authors

Page 20 of 303

برگِ سبز — Page 20

برگ سبز اپنے ایک خطاب کے آخر میں دعا کی تلقین کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: دوپس میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اپنی عظمت اور اپنے جلال اور اپنی بے انتہا قدرتوں کا مظہر بنادے اور اس کی شان اور عظمت تمام دنیا اور اس کے ہر گوشہ میں ظاہر ہو۔اور خدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے لئے اور اس کے دین کی خاطر اپنا سب کچھ اس کی راہ میں قربان کر دیں اور ہماری نسلوں کو بھی توفیق عطا فرمادے اور کوئی وسوسہ ہمیں اس سے جدا نہ کر سکے۔وہ ہمارا ہو اور ہم اس کے ہو جا ئیں۔آمین۔“ ( الفضل 3 جنوری 1925 ء ) تقسیم ملک سے قبل قادیان کے آخری جلسہ سالانہ کی افتتاحی تقریر میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خدا تعالیٰ سے اس طرح التجا کی: ” ہمارا ذہن اور ہماری ذمہ داری ہمیں اس طرف بلاتی ہے کہ باوجود اس کے وعدوں کے ہم اپنی کمزوریوں اور بے بسیوں کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور جھک جائیں اور اس سے التجا کریں کہ اے ہمارے رب تو نے ہمیں ایک ایسے کام کیلئے کھڑا کیا ہے جس کے کرنے کی کروڑواں اور ار بواں حصہ بھی ہم میں طاقت نہیں۔اے ہمارے رب تو نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اگر تم اپنے غلام سے کوئی ایسا کام لوجو اس کی طاقت سے باہر ہو تو خود اس کے ساتھ مل کر کام کرو ور نہ اس سے ایسا کام نہ لو۔اے ہمارے رب تو نے جب اپنے بندوں کو جن کی طاقتیں محدود ہیں یہ حکم دیا ہے کہ کسی کے سپر دکوئی ایسا کام نہ کرو جو اس کی طاقت سے بالا ہو تو اے ہمارے رب تیری شان اور تیرے فضل اور تیری رحمت سے ہم کب یہ اُمید کر سکتے ہیں کہ تو ایک ایسا کام ہمارے سپر د کرے گا جو ہماری 20