برگِ سبز

by Other Authors

Page 164 of 303

برگِ سبز — Page 164

برگ سبز تو تمہیں اپنی خوشیاں نظر آتی ہیں۔تکلیفیں اور دکھ خوشیوں کیلئے ایک سبب، ذریعہ اور آلہ کی طرح ہیں۔تکلیفوں کا علم اور معرفت نہ ہوتی تو خوشیوں ، آرام اور سکھ کا پتہ بھی نہ لگتا۔دن کا نور رات کے اندھیرے کے بعد کیسا بھلا لگتا ہے۔رات حالانکہ ظلمت ہے اور سوجانا غفلت ہے لیکن دن کے نورانی اوقات میں کام کرنے سے تھک جانے کے بعد کس قدر آرام دہ ہے۔بیماری کے بعد صحت کیسی لذیذ اور بیماری میں خدا کی یاد کیسی خوش نما اور دل کی راحت ہے۔اسی طرح بھوک پیاس کے بعد کھانا پینا۔خوف کے بعد امن۔محنت کے بعد آرام۔اُس پر سب تکلیفوں کا قیاس کر لو۔پس ہر وقت اور ہر حال میں خوش اور اللہ سے راضی رہو اور شکر گزار رہو۔اللہ کے فضل سے صابرین اور شاکرین کیلئے تکالیف ان پھولوں کی طرح ہیں جو پھلدار درختوں میں لگتے ہیں۔پھول جھڑ جاتے ہیں اور پھل رہ جاتے ہیں۔66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کی برکت سے اپنے بھائی حضرت پیر منظور محمد صاحب پر ہونے والے الہی انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت اقدس نے میرے بھائی منظور محمد صاحب کو یہ دعا دی ہے۔پڑھایا جس نے اس پر بھی کرم کر جزا دے دین اور دنیا میں بہتر اس دعا سے پہلے میرے بھائی صاحب انجمن سے وظیفہ لیتے تھے۔حضرت صاحب کی اس دُعانے قبولیت کا رنگ دکھایا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس قدر کشائش وسعت اور برکت بخشی کہ جس قدر وظیفہ کی رقم انجمن سے لی تھی۔پیسہ پیسہ کا حساب کر کے سب یکمشت 164