برگِ سبز

by Other Authors

Page 152 of 303

برگِ سبز — Page 152

برگ سبز ہوٹل کے بیروں اور خانساموں نے لے لی تھی۔شاید یہ کوئی ایسا غیر متوقع سانحہ بھی نہ تھا کیونکہ مولانا ظفر علی خاں کی جگہ بھی تو آخر مولانا اختر علی خاں کے حصہ میں آئی تھی۔وقت کا سیلاب کسی نسل کیلئے تھم جاتا ہے اور کسی کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتا ہے۔مولانا ظفر علی خاں کو میں نے آخری بار مری میں دیکھا تھا۔کمشنر ہاؤس کے نزدیک ایک پھاٹک پر ان کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی بوڑھے اور علیل ظفر علی خاں کا بس نام ہی رہ گیا تھا۔کام ان کا پورا ہوچکا تھا اور اس کے تمام ہونے میں زیادہ دیر نہ تھی۔میں جب بھی ان کے گھر کے سامنے سے گزرا تو پھاٹک سے ڈھلوان پر نیچے اترتی ہوئی پہاڑی پگڈنڈی کو ہمیشہ گھورتا تا کہ شاید ظفر علی خاں نظر آجائیں۔ایک دن وہ نظر آگئے۔رکشا پر بیٹھے ہوئے تھے جسے دوقلی آگے ہانک رہے تھے۔اور دو پیچھے سے تھامے ہوئے تھے۔مولانا نحیف و نزار تھے۔نظر کمزور۔سماعت ثقیل ، زبان خاموش ، سر ہلتا تھا اور آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں۔جوانی میں میانہ قامت ہوا کرتے تھے اب بڑھاپے میں پستہ قامت نظر آئے۔رکشا کے قلی بے خبر تھے کہ ان کی سواری کو مولانا حالی نے نازش قوم اور فخر اقران کہا تھا اور ایک قصیدے میں اسے شیر دل اے ظفر علی خاں کہہ کر مخاطب کیا تھا۔رکشا تیزی سے ڈھلوان پر اتر گیا اور میں آہستہ آہستہ چڑھائی کی طرف روانہ ہوا۔“ سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے اپنی عقیدت ومحبت اور ان کی خطابت کو اپنے مخصوص رنگ میں خراج تحسین پیش کرنے کے بعد شاہ جی سے ایک ملاقات کی تفصیل تحریر کی ہے۔اس کا آخری حصہ درج ذیل ہے: میں نے شاہ جی سے جو سوال کئے وہ سب سود و زیاں کے بارہ میں تھے۔پہلا سوال یہ تھا کہ گزشتہ چالیس برس میں جو آپ کی عوامی زندگی پر محیط ہیں آپ 152