برگِ سبز

by Other Authors

Page 146 of 303

برگِ سبز — Page 146

برگ سبز ایک اور سبق آموز واقعہ کا ذکر آپ یوں کرتے ہیں: دو میں انجینئر نگ کالج میں تھا۔ہمارے پرنسپل کی ایک یہ عادت تھی کہ کسی کلاس میں پیریڈ شروع ہونے کے دس پندرہ منٹ بعد خاموشی سے داخل ہوتے۔پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاتے۔استاد اور طلباء کا بغور جائزہ لیتے۔باری باری وہ روزانہ مختلف کلاسوں میں جاتے۔ہمارے ایک جرمن پروفیسر تھے۔کئی کتب کے مصنف تھے اور اپنے مضمون میں بہت شہرت رکھتے تھے۔وہ لیکچر کے دوران کوئی مداخلت پسند نہ کرتے تھے اس لئے کلاس میں داخل ہونے کے بعد تمام دروازے بند کر وا دیتے اور اندر سے چھٹی چڑھا دیتے۔ایک دن پرنسپل صاحب ان کی کلاس میں آئے۔دیکھا تو دروازہ اندر سے بند تھا۔انہوں نے کھٹکھٹایا تو پروفیسر کریمر نے پوچھا کہ کون ہے تو پرنسپل نے اپنا نام بتایا۔پروفیسر صاحب نے پوچھا کہ کیا کام ہے تو پرنسپل نے کہا میں تمہاری کلاس میں کچھ دیر بیٹھنا چاہتا ہوں۔پروفیسر نے کہا کہ کل کلاس شروع ہونے سے پانچ منٹ قبل آجائیں مگر دروازہ نہ کھولا۔پرنسپل نے دوسرے روز ایسا ہی کیا۔اس واقعہ کا دونوں کے تعلقات پر کوئی منفی اثر نہ پڑا۔ہم پاکستانی طلباء کے لئے ان یوروپین اساتذہ کا یہ انداز حیران کن تھا۔“ آپ کی خدمات کی فہرست کافی طویل ہے تاہم ابتدا میں مجلس خدام الاحمدیہ لا ہور کی قیادت اور خدمت خلق کے یادگار کارنامے اور پھر آخر میں سیکرٹری وقف نو جماعت احمدیہ لاہور کی حیثیت میں آپ کو تاریخی خدمات کی سعادت حاصل ہوئی۔الفضل انٹرنیشنل 25اگست 2006ءصفحه (13) 146