برگِ سبز — Page 144
برگ سبز زمانہ طالبعلمی سے ہی آپ کو اہم جماعتی خدمات کی تو فیق ملتی رہی۔اس کے بعد کم و بیش نصف صدی تک لاہور، سرگودھا، کراچی، پشاور، چکلالہ، راولپنڈی وغیرہ میں ملازمت کے ساتھ نہایت مفید و نتیجہ خیر خدمات کی توفیق ملتی رہی۔سوانح عمریوں میں متحدیث نعمت کا رنگ غالب ہوتا ہے اس لئے بالعموم سوانح نگار اپنی غلطیوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں یا ایسے رنگ میں ذکر کرتے ہیں جس میں تعریف و توصیف کا رنگ پیدا ہو جائے مگر مصنف نے اپنی خدا داد قوت مشاہدہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی غلطیوں کا برملا اعتراف و تذکرہ کرتے ہوئے ان سے سبق اور نصیحت حاصل کرنے کا ذکر " بہت سادہ اور مؤثر انداز میں کیا ہے۔صرف دو واقعات ملاحظہ ہوں۔آپ لکھتے ہیں: 54-1952ء میں خاکسار پہلے احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن لاہور کا سیکرٹری مال، پھر جنرل سیکرٹری اور پھر صدر تھا۔خاکسار واحد شخص ہے جس کو بیک وقت پریذیڈنٹ احمدیہ کالجیٹ ایسوسی ایشن لاہور اور قائد مجلس خدام الاحمدیہ لا ہور شہر وضلع کے عہدے بذریعہ انتخاب ملے۔تعلیم الاسلام کالج لاہور میں ہونے کی وجہ سے لاہور کے مختلف کالجوں میں زیر تعلیم احمدی طلباء کی تعداد قریباً چار صد تھی۔ایک دن خاکسار کو بطور صد راحمد یہ کالجیٹ ایسوسی ایشن محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ نے ارشاد فرمایا کہ بیرون ملک سے آئے ہوئے چند مبلغین کے اعزاز میں احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن چائے کی پارٹی دے اور شرکاء کی تعداد قریبا دوصد ہو۔مالی تنگی کا زمانہ تھا۔پھر طلباء کے پاس فالتو رقم بھی نہیں ہوتی تھی جس کی وجہ سے 50 روپے کم پڑ گئے۔میں نے سوچا کہ یہ تقریب دراصل تو جماعت کی ہے یہ کمی جماعت کے فنڈ سے پوری کر لیتے 144