برگِ سبز — Page 130
برگ سبز کلرک عبد الرحمن صاحب دہلوی سے ملاقات ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کا مطالعہ کیا۔قادیان گئے اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے ملاقات ہوئی۔واپس بر ما چلے گئے اور کافی مطالعہ، سوچ بچار، غور وفکر اور دعاؤں کے بعد احمدیت قبول کرنے کی سعادت پائی۔اپنے اس اقدام کے متعلق آپ لکھتے ہیں: ”بے شک یہ ایک بہت بڑا قدم تھا جو میں نے اٹھایا لیکن اب مجھے احمدیت قبول کئے چالیس سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے۔میں نے اس عرصہ میں اپنے رب کے بے شمار فضلوں اور احسانوں کا مشاہدہ کیا ہے۔شراب نوشی کے علاوہ مجھے قمار بازی کی لت بھی تھی۔میں گھوڑ دوڑ پر۔کتوں کی دوڑ پر یا تاش کی بازی پر جوا کھیلا کرتا تھا۔مجھے خوب یاد ہے۔ایک دفعہ جب میں امپھال میں تھا میں نے اپنی مہینے بھر کی پوری تنخواہ دوسرے افسروں کے ساتھ جوا کھیلنے میں لٹا دی تھی۔خدا کا شکر کہ۔۔۔۔اس بد عادت سے نجات بھی ملی اور اس کے برعکس کتنی ہی اچھی عادتیں ودیعت ہوئیں مثلاً احمدیت قبول کرنے سے پیشتر میں نے کبھی ایک پیسہ بھی خیرات وسخاوت میں نہیں دیا تھا۔اسلام نے مجھے اللہ کی راہ میں مال کی قربانی کا فلسفہ سمجھایا اور میں بخوشی اس کی راہ میں مال دینے لگا۔شروع شروع میں اپنی آمد کا 1/16 ادا کرتا رہا اور بعد میں اس کو بڑھا کر 1/10 کر دیا۔1967ء میں میں نے اپنی آمد کے 1/3 حصہ کا نذرانہ خدا تعالیٰ کی راہ میں پیش کر دیا اور بفضلہ تعالیٰ تادم تحریر اپنے اس عہد پر قائم ہوں۔اگر چہ میری 130