برگِ سبز

by Other Authors

Page 70 of 303

برگِ سبز — Page 70

برگ سبز جاتے ہیں۔ان کی شفقتوں کا ذکر بھی تفصیل کا تقاضا کرتا ہے، تاہم دعا کی درخواست کے لئے تو اس سے زیادہ لکھنا شاید مناسب بھی نہ ہو کیونکہ یہ نام اتنے معروف اور ان کی خوبیاں اتنی عام ہیں کہ ان کے شاگردوں کے سامنے ان سب بزرگوں کی تصویریں اور خوبیاں ایک رنگین فلم کی طرح آتی چلی جائیں گی۔ہائی سکول کے اساتذہ میں حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کا ذکر بھی نمایاں ہے۔خاکسار ان سے براہ راست کسب فیض اور استفادہ نہیں کر سکا تاہم ان کا نظم و ضبط ، خوش خلقی اور صفائی و نفاست بے مثال تھی۔ان سے پہلے اس منصب پر پر حضرت سید سمیع اللہ شاہ صاحب تھے جو اپنی بزرگی اور نیکی کی وجہ سے بہت بلند مقام رکھتے تھے۔خاکسار نے آٹھویں جماعت تک تو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں تعلیم حاصل کی اس کے بعد مدرسہ احمدیہ میں پڑھنے یا زندگی وقف کرنے کی توفیق ملی۔اس مدرسہ کے پہلے ہیڈ ماسٹر حضرت مصلح موعودؓ تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب قمرالانبیاء سے بھی اس درسگاہ نے استفادہ کیا۔حضرت میر محمد الحق صاحب بھی اس مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر رہے۔خاکسار نے حضرت مولوی عبدالرحمان جٹ صاحب کو بھی اس مدرسہ کا ہیڈ ماسٹر دیکھا۔جٹ صاحب درویشی کے زمانہ میں ناظر اعلیٰ صدر انجمن قادیان اور امیر جماعتہائے ہندوستان کے بلند منصب پر فائز ہوئے۔خاکسار کے والد بزرگوار عبدالرحیم صاحب دیانت بھی درویشی کی سعادت سے بہرہ ور تھے اس لئے خاکسار کو بکثرت قادیان جانے اور حضرت مولوی جٹ صاحب کی شفقت سے حصہ لینے کا موقع ملتا رہا۔مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ میں مولوی محمود خلیل صاحب ( غالباً بعد میں وہ اپنا نام محمود سکندر لکھنے لگے تھے ) مرحوم جوانی کی عمر میں ہی اچانک راہی ملک عدم ہو گئے 70