برگِ سبز — Page 53
برگ سبز شاگردوں کی خوب حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔خاکسار واپس آنے لگا تو حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ اب اور تو کوئی کام نہیں ہے لیٹے لیٹے مطالعہ ہی کیا جاسکتا ہے۔آپ دوبارہ آئیں تو کوئی کتاب لیتے آئیں۔خاکسار نے اس وقت تو بخوشی یہ ذمہ داری لے لی کیونکہ خاکسار کی رہائش دار المطالعہ بندر روڈ پر تھی۔اس لئے یہ کام بہت آسان لگا تاہم جب میں کتاب کا انتخاب کرنے لگا تو مجھے اس کام کی مشکل کا احساس ہوا۔اگر تفسیر یا حدیث کی کوئی کتاب لے جاؤں تو وہ حضرت مولوی صاحب نے متعدد مرتبہ پڑھی ہوئی ہوگی۔اگر کوئی اور کتاب لے جاؤں گا تو خود میرے ذوق مطالعہ کا بھی خوب اندازہ ہو سکے گا۔آخر سوچ سوچ کر نا قابل فراموش جو مشہور صحافی دیوان سنگھ مفتون کی ایک کتاب ہے لے گیا۔حضرت مولوی صاحب نے اسے پسند فرمایا۔بعض واقعات پڑھے، ان پر تبصرہ بھی ہوتا رہا۔ایک دن خاکسار نے عرض کیا کہ یہ کتاب سردار صاحب موصوف کی ان یادوں پر مشتمل ہے جو وہ کبھی کبھار اپنے اخبار ”ریاست“ میں شائع کیا کرتے تھے۔اگر آپ بھی اپنے ماہنامہ الفرقان میں اسطرح اپنی زندگی کے واقعات تحریر فرمائیں تو ہم جیسے آپ کے شاگردوں اور جماعت کے دوسرے افراد کیلئے بھی بہت دلچسپ اور مفید ہوں گے۔خاکسار کی بات پر حضرت مولوی صاحب نے کچھ تامل کے بعد فرمایا کہ مجھے اور بھی کئی لوگوں نے کہا ہے اب آپ نے بھی توجہ دلائی ہے۔دیکھیں خدا تعالیٰ کو کیا منظور ہے۔۔۔۔۔ہے۔۔۔میری خوشگوار حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے کچھ عرصہ کے بعد رسالہ الفرقان میں ”حیات ابی العطاء کے عنوان سے حضرت مولوی صاحب کی زندگی کے واقعات پڑھے۔یہ واقعات اب خالد احمدیت کتاب کی زینت ہیں اور ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔حضرت مولانا عبدالمالک خان صاحب لمبا عرصہ کراچی میں مربی رہے۔خاکسار کی 53