برگِ سبز

by Other Authors

Page 31 of 303

برگِ سبز — Page 31

برگ سبز سوال کرنا شروع کر دیا اور تھوڑی دیر میں ہی وہ اپنی تیزی کو بھول کر نارمل ہو گئے۔باتوں باتوں میں میں نے انہیں بتایا کہ میں چرچ کے فلاں فلاں بشپ کو مل چکا ہوں تو اس نے پوچھا کہ آپ فلاں بشپ کو بھی ملے ہیں۔(اس نے جو نام لیا وہ اس وقت یاد نہیں آرہا) خاکسار نے جواب دیا کہ میں نے ان کی شہرت سنی ہے اور یہ بھی کہ وہ اسلام کے متعلق اچھی معلومات رکھتے ہیں اس لئے ان سے ملنے کی خواہش تو ہے مگر ابھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔بعد میں پتہ چلا کہ یہ بھی اس کی ایک چال تھی کیونکہ اس نے اپنا نام لے کر ہی سوال کیا تھا اور اس کا مقصد تھا کہ اگر میں کہوں کہ ہاں میں اس سے بھی ملا ہوں تو وہ مجھے بآسانی غلط ثابت کر سکتا ہے۔دراصل یہ صاحب مسلمانوں میں سے مرتد ہو کر اسلامی ملکوں میں رہ کر آئے تھے اور اس طرح اسلام اور عربی کے متعلق واقفیت تو رکھتے تھے مگر حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ثابت کرنا تو باقی عیسائیوں کی طرح ان کے لئے بھی ممکن نہ تھا۔ایک پادری صاحب اکثر خاکسار سے ملتے رہتے تھے۔ایک دفعہ مجلس کراچی نے ہاکس بے جانے کا پروگرام بنایا۔پادری صاحب نے بھی خواہش کا اظہار کیا اور میرے ساتھ وہاں گئے۔سمندر کے کنارے پر کراچی کے خوشحال اور آزاد منش لوگ کثرت سے گئے ہوئے تھے۔پادری صاحب نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے خیال میں یہ لوگ احمدی ہو جائیں گے۔خاکسار نے انہیں کہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر ابتدائی ایمان لانے والے عام ماہی گیر تھے اگر ان سے یہ سوال کیا جاتا تو جوان کا جواب ہوتا وہی میرا جواب ہے۔کراچی کے بے شمار واقعات ہیں مگر اختصار کی خاطر نظر انداز کرتے ہوئے ایک بات کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔حلقہ مارٹن روڈ میں ایک مکان میں کچھ نوجوان کرایہ پر ایک جگہ 31