برگِ سبز

by Other Authors

Page 229 of 303

برگِ سبز — Page 229

حال برگ سبز دل خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر کہتے ہوئے سفر کو جاری رکھنا۔یہاں اگر ایک لمحہ کیلئے رک کر اس عاشق صادق کے جذبات کو سمجھنے یا تصور میں لانے کی کوشش کی جائے تو خوب ہوگا، جو سردی کے باوجود غربت ناداری کے باوجود، مخالفوں کی گالیوں اور استہزاء کے باوجود جوتا ٹوٹ جانے کی صورت میں ننگے پاؤں ایک بلند مقصد کیلئے سفر کرتے ہوئے کیا لذت وسرور حاصل کرتا ہوگا۔وہ بابرکت اجتماع جو جماعت کی علمی ترقی ، باہم محبت و یگانگت اور روحانی ترقی میں اپنی مثال آپ تھا۔قادیان جیسی چھوٹی سی بستی میں منعقد ہوتا۔قادیان کسی قدرتی رستے و دریا وغیرہ پر آباد نہیں تھا۔وہاں تجارتی مرکز بھی کوئی نہیں تھا۔وہاں کارخانے اور صنعتی ترقی اور ملازمت وغیرہ کی بھی کوئی صورت نہ تھی۔تاہم اسلام کی خدمت کرنے والے ایک وجود نے اسلام کی خدمت کی غرض سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تو سعید روحیں کشاں کشاں وہاں پہنچے لگیں۔قادیان خدائے واحد کی عبادت اور پیار و محبت کا ایک نشان بن گیا۔وہ خوش قسمت جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ کی زیارت وملاقات کیلئے وہاں جاتے ، انہیں دن رات خدمت دین کے جذبہ سے سرشار لوگوں کی صحبت سے فیض اٹھانے کا موقع ملتا۔آپ کی پر لطف صحبتوں میں وہ روحانی خزائن تقسیم ہوتے تھے جنہیں دنیا دار لوگ قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔مزید برآں انہیں حضرت مولانا نورالدین جیسے عظیم عاشق کلام الہی کی زبان سے حکمت و دانائی حاصل ہوتی۔حضرت مولانا عبد الکریم صاحب کی نہایت عمدہ اور بلند آواز اور موثر انداز میں کلام الہی کانوں میں رس گھولتا۔حضرت مولانا محمد احسن اور حضرت مولانا 229