برگِ سبز — Page 225
برگ سبز تاریخ انہی لفظوں میں دہرائی جائے گی جیسے بعض دفعہ پہلے رونما ہوئی ہے۔یہ سب فرضی باتیں ہیں۔اللہ بہتر جانتا ہے اور وہی جانتا ہے کیا مقدر تھا اور وہ یہی مقدر تھا۔فرمایا: ” تو امن اور برکت کے ساتھ اپنے گاؤں میں جائے گا اور میں تجھے پھر بھی یہاں لاؤں گا“۔اب اس مضمون کو ”مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ“ کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو پتہ چلتا ہے ایک بار نہیں۔دودو۔تین تین۔چار چار بار آنا ہوگا اور بالآخر اللہ تعالیٰ کی وہ تقدیر ظاہر ہوگی کہ جب خلافت قادیان اپنی دائمی مرکز قادیان کو واپس پہنچے گی۔26 جولائی 1904ء کو یہ رویا ہوا اور انبیاء کے رویا اور کشوف بھی وحی کا درجہ رکھتے ہیں۔اس لئے اس رؤیا کی بڑی اہمیت ہے۔آپ نے دیکھا کہ ”ہم قادیان گئے ہیں۔اب دیکھیں عجیب بات ہے، قادیان رہتے ہیں اور دیکھا کہ قادیان گئے ہیں۔میں نے سب الہامات کا مطالعہ کیا ہے ایک بھی جگہ یہ نہیں لکھا کہ قادیان آئے ہیں۔بلکہ ہر جگہ گئے ہیں کا مضمون ہے۔جس کا مطلب ہے بہت لمبے عرصے سے باہر رہ رہے ہیں، واپس آنے کی تمنا ہے پوری نہیں ہو رہی ، دعائیں کرتے ہیں۔اندھیرے رستے میں حائل ہیں اور پھر خدا تو فیق عطا فر ما دیتا ہے قادیان گئے ہیں۔فرمایا: ” اپنے دروازے کے سامنے کھڑے ہیں۔ایک عورت نے کہا السلام علیکم اور پوچھا راضی خوشی آئے۔خیر و عافیت سے آئے۔“ جب میں یہاں آیا تو بعض اسی قسم کی کثرت سے آوازیں اٹھ رہی تھیں۔السلام علیکم۔خیریت سے پہنچے۔راضی خوشی آئے۔راضی خوشی کا لفظ 225