برگِ سبز — Page 19
برگ سبز ہم آگ سے ڈرتے نہیں اس لئے آگ نہ صرف ہماری غلام بلکہ ہمارے غلاموں کی بھی غلام ہے۔سچی بات یہ ہے کہ جب کوئی قوم یہ فیصلہ کر لیتی ہے کہ ہم نے کسی سے نہیں ڈرنا تو تمام قو میں اس سے ڈرنے لگتی ہیں پس اپنے دلوں سے بزدلی نکال دو اور یا درکھو کہ جس دن تم نے بزدلی دور کر دی اسی دن تمام قو میں تم سے ڈرنے لگیں گی۔پھر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا میں بھی کرو۔جب اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہو رہے ہوں اس وقت ایسے ایسے رنگ میں دعائیں قبول ہوتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ابھی چند دن پہلے کا واقعہ ہے مجھے ایک مشکل در پیش تھی اور میرے ذہن میں اس کا کوئی حل نہ آتا تھا۔طبیعت میں ایک قسم کی گھبراہٹ تھی اور میں حیران تھا کہ کیا کروں۔دل میں خیال آیا میں نے کاغذ اور قلم رکھ دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الہی میرے پاس اس مشکل کا کوئی حل نہیں اور میرے واہمہ میں بھی نہیں آتا کہ میں اس کا کیا حل نکالوں تو خود ہی اپنے فضل سے میری رہبری فرما۔صرف ایک منٹ میں نے دعا کی ہوگی۔پھر میں اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ابھی پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ وہ مشکل جس کا حل میرے واہمہ میں بھی نہیں آتا تھا حل ہوگئی۔یعنی پانچ منٹ کے اندر ہی میرے دروازے پر دستک ہوئی اور جس مشکل کی وجہ سے میں گھبرا رہا تھا اس کا حل حاصل ہو گیا۔پس جو اللہ تعالیٰ کے حضور گرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی اعانت کرتا ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کی مد کا پورا یقین ہونا چاہئے اور جس وقت یقین سے دعا کی جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سے رد نہیں کی جاتی بلکہ قبول ہو جاتی ہے۔“ الفضل 11 جون 1931 ء ) 19