برگِ سبز — Page 18
برگ سبز ہم سے راضی ہو گیا۔۔۔میں دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے ساتھ مل کراسی طرح جس طرح میں نے ابھی کہا ہے دعا کریں۔بے شک اپنے لئے بھی دعا کریں مگر دین کی اشاعت اور غلبہ کیلئے ضرور دعا کریں تا اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو۔“ (الفضل یکم جنوری 1942 ء ) اپنی اولا داور جماعت کیلئے ایک جامع دعا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں : ”اے میرے رب تو کتنا پیارا ہے۔نہ معلوم میری موت کب آنے والی ہے اس لئے میں آج ہی اپنی ساری اولا د اور اپنے سارے عزیز واقارب اور احمدیہ جماعت تیرے سپر د کرتا ہوں۔اے میرے رب تو ان کا ہو جا اور یہ تیرے ہو جائیں۔میری آنکھیں اور میری روح ان کی تکلیف نہ دیکھیں۔یہ بڑھیں اور پھلیں اور پھولیں اور تیری بادشاہت کو دنیا میں قائم کر دیں اور نیک نسلیں چھوڑ کر جوان سے کم دین کی خادم نہ ہوں تیرے پاس واپس آئیں۔“ (سیرت ام طاہر بنی انتہا۔صفحہ 276) قبولیت دعا اور تائید الہی کا ایک نہایت لطیف واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ لمسیح الثانی فرماتے ہیں : اصل بات یہ ہے کہ دلیری بڑی چیز ہے تم موت کیلئے تیار ہو جاؤ موت تم سے بھاگنے لگے گی۔جیل خانوں کیلئے تیار ہو جاؤ تو مارنے والے تم سے دور بھاگنے لگیں گے۔پس دلیر بن جاؤ اور یقین رکھو کہ ہر چیز تمہاری خادم ہے اور تمہیں کوئی چیز گزند نہیں پہنچا سکتی۔اسی کی طرف۔۔۔اشارہ ہے کہ ” آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ نہ صرف ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“ یعنی چونکہ 18