برگِ سبز

by Other Authors

Page 108 of 303

برگِ سبز — Page 108

برگ سبز مؤثر علاج نہ تھا۔کیونکہ اس نسخہ نے ان مریضوں کو اچھا کیا جن کی نسبت لا علاج ہونے کا فتویٰ دیا گیا تھا۔“ دو ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 87-88 - ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ لندن) حضور نے عام طور پر مسلمانوں کی نمازوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا: یہ عام بدعت پھیلی ہوئی ہے کہ تعدیل ارکان پورے طور پر ملحوظ نہیں رکھتے اور ٹھونگے دار نماز پڑھتے ہیں۔گو یاوہ نماز ایک ٹیکس ہے جس کا ادا کرنا ایک بوجھ ہے۔اس لئے اس طریق سے ادا کیا جاتا ہے جس میں کراہت پائی جاتی ہے۔حالانکہ نماز ایسی ھی ہے جس سے ایک ذوق ،انس اور سرور بڑھتا ہے۔مگر جس طرز پر نماز ادا کی جاتی ہے اس سے حضور قلب نہیں ہوتا اور بے لطفی پیدا ہوتی ہے۔۔۔عام طور پر یہ حالت ہورہی ہے کہ نماز کو ایسے طور سے پڑھتے ہیں جس میں حضور قلب کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ جلدی جلدی اس کو ختم کیا جاتا ہے اور خارج نماز میں بہت کچھ دعا کے لئے کرتے ہیں اور دیر تک دُعا مانگتے رہتے ہیں۔کیا وجہ ہے بعض لوگ تیس تیس برس تک برابر نماز پڑھتے ہیں پھر کورے کے کورے ہی رہتے۔کوئی اثر روحانیت اور خشوع وخضوع کا ان میں پیدا نہیں ہوتا۔اس کا یہی سبب ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں جس پر خدا تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے۔ایسی نمازوں کے لئے ونیل آیا ہے۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 443۔ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ لندن) فرمایا: ”نماز ایسی بھی ہے کہ ستیات کو دور کر دیتی ہے۔جیسے فرمایا۔اِن الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (هود 115) نماز کل بدیوں کو دور کر دیتی ہے۔108