براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 194 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 194

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 34", 194 پر مبنی ثابت کرتی ہے وبس جبکہ حقیقت حال سطور بالا سے عیاں ہے البتہ اس امر کا اندراج از بس ضروری ہے کہ حضرت مرزا صاحب اپنی تصنیفات میں پوشیدہ امداد کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ملاحظہ ہو ! “ اس خیال میں میرے مخالف سر اسر بیچ پر ہیں کہ یہ اس شخص کا کام نہیں کوئی اور پوشیدہ طور پر اس کو مدد دیتا ہے سو میں گواہی دیتا ہوں کہ حقیقت میں ایک اور ہے جو مجھے مدد دیتا ہے لیکن وہ انسان نہیں بلکہ وہ قادر و توانا ہے جس کے آستانہ پر میر اسر ہے۔" نجف کے ایک فاضل عبد الحی نام اپنے رشتہ دار عبد اللہ عرب کی تلاش میں غالباً 1897ء میں پہلی دفعہ قادیان آئے تھے۔اور حضرت مر زا صاحب کے ساتھ مباحثات کرتے رہے۔ان کو یہ شبہ تھا کہ عربی کتابیں جو حضرت مرزا صاحب نے لکھی ہیں وہ ان کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی نہیں ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ انہوں نے مسجد مبارک میں بیٹھے ہوئے حضرت مرزا صاحب سے عرض کی کہ یہ قلم دوات اور کاغذ ہے۔آپ میرے سامنے عربی لکھیں۔حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ میں بغیر اذنِ الہی کے اس طرح لکھنا شروع کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کی ذات بے نیاز ہے۔میر ا ہاتھ یہیں شل ہو جائے یا مجھے سب علم ہی بھول جائیں۔اس کے چند روز بعد عرب صاحب ایک سوال عربی زبان میں لکھ کر مسجد میں لے کر گئے اور بعد نماز مغرب جناب مرزا صاحب کی خدمت میں پیش کیا اور قلم دوات بھی جواب لکھنے کے واسطے حاضر کی۔حضرت صاحب نے اسی وقت اس کا جواب نہایت فصیح اور بلیغ عربی میں تحریر کر دیا۔ایسا ہی چند روز کے بعد عرب صاحب پھر ایک سوال لکھ کر لے گئے اور حضرت صاحب نے اس کا جواب بھی وہیں بیٹھے ہوئے نہایت فصاحت کے ساتھ مفصل لکھ دیا۔تھوڑے تھوڑے دنوں کے وقفوں کے بعد اس طرح کئی ایک سوالات کے جوابات عربی زبان میں اپنے سامنے تحریر کرا کے عرب صاحب نے تشفی پائی کہ بے شک جناب حضرت مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ نے فصیح اور بلیغ عربی لکھنے کی طاقت عطا فرمائی ہے۔اور اس کے بعد وہ بیعت کر کے داخل سلسلہ حقہ ہوئے اور سلسلہ کی تائید میں کئی کتا بیں اور رسالے تالیف کئے ان کی ایک قابل قدر تالیف لغات القرآن بھی ہے۔35 براہین احمدیہ کی تصنیف کی تحریک بظاہر تو آریہ سماج کے ساتھ قلمی جنگ سے ہوئی جو آپ نے مامور ہو کو تصنیف فرمائی تھی جس کے تقریباً 2500 صفحات مئی 1879ء میں مکمل ہو چکے تھے۔جب آپ نے ضمیمہ “ اشاعۃ السنۃ نمبر 4 جلد دوئم مئی 1879ء (زیر ادارت مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی) میں اشتہار دیا کہ “ باعث تصنیف اس کتاب کے پنڈت دیانند اور ان کے اتباع ہیں جو اپنی اُمت کو آریہ سماج کے نام سے مشہور کر رہے ہیں اور بجز اپنے وید کے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی مسیح اور حضرت محمد مصطفی علیہم السلام کی تکذیب کرتے ہیں اور نعوذ باللہ توریت زبور، انجیل کو محض افتراء سمجھتے ہیں اور ان مقدس نبیوں کے حق میں توہین کے کلمات بولتے ہیں 36 کہ ہم نہیں سن سکتے۔۔۔26 اور پھر خد اتعالیٰ نے اس کام کو آپ کے خیال اور ارادہ سے بالا کر دیا اس طرح ایک پیشگوئی پوری ہو گئی جس کا اس سے پہلے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو کبھی خیال بھی نہ آیا تھا۔واقعات اور حالات کے اس طرح جمع ہو جانے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خدائی کا روبار تھا جس میں انسانی عقل اور ہاتھ کا کوئی دخل نہ تھا اس کا اندازہ آپ کے درج ذیل رویاء سے کیا جا سکتا ہے جو آپ نے ایام طالب علمی میں دیکھی تھی:۔یہ عاجز اپنے بعض خوابوں میں سے جن کی اطلاع اکثر مخالفین اسلام کو انہیں دنوں میں دی گئی تھی کہ جب وہ خواہیں آئی تھیں اور جن کی سچائی بھی انہیں کے روبرو ظاہر ہو گئی بطور نمونہ بیان کرتا ہے۔منجملہ ان کے ایک وہ خواب ہے جس میں اس عاجز کو جناب خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تھی۔اور بطور مختصر بیان اس کا یہ