براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 193 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 193

" براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام آریہ " پر بھی تبصرہ کیا۔اس تبصرہ کا ایک حصہ درج ذیل ہے:۔193 یہ کتاب لاجواب مؤلف براہین احمدیہ میرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان کی تصنیف ہے۔جو بغرض تحریر ریویو مصنف عالی ہمت نے ہمارے پاس بھجوائی ہے۔اس میں جناب مصنف کا ایک ممبر آریہ سماج سے مباحثہ شائع ہو ا ہے جو معجزہ شق القمر اور تعلیم وید پر بمقام ہوشیار پور ہوا تھا۔اس مباحثہ میں جناب مصنف نے تاریخی واقعات اور عقلی وجو ہات سے معجزہ شق القمر ثابت کیا ہے۔اور اس کے مقابلہ میں آریہ سماج کی کتاب (وید اور اس کی تعلیمات و عقائد تناسخ وغیرہ) کا کافی دلائل سے ابطال کیا ہے۔ہم بجائے تحریر ریویو اس کتاب کے بعض مطالب به نقل اصل عبارت بدیہ ناظرین کرتے ہیں۔وہ مطالب بحکم مشک آنست که خود ببوید نه که عطار بگوید "خود شہادت دیں گے کہ وہ کتاب کیسی ہے اور ہمارے ریویو لکھنے کی حاجت باقی نہ رہنے دیں گے۔"32 7-12- حضرت مرزا صاحب کے بارے میں پروفیسر نصیر حبیب کی رائے مولوی چراغ علی کی اس طرح حدیث سے بے اعتنائی، فقہ پر نظر عتاب اور تفسیر سے عدم اعتماد جس کا ذکر 5-3 میں کیا گیا ہے ، کے مقابل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی روش کو خراج پیش کرتے ہوئے ایک فاضل مقالہ نگار جناب نصیر حبیب صاحب اپنے مقالہ “چند جدید تحریکیں۔ایک جائزہ ” میں لکھتے ہیں:۔“اس دور کا منظر یوں لگتا ہے جیسے۔۔۔۔تیز آندھی میں بکھرتے ہوئے پتے ہر کھڑ کی ہر دریچہ سے پناہ مانگتے ہیں اس طرح کہ جیسے سامنے کوئی پل صراط ہو اسے پار کرنا ہو اور اسے پار کرنے کی جرآت دل میں نہ پاتا ہو۔کسی نے اسے پار کرنے سے انکار کر دیا ہو اور کسی نے پار کرتے ہوئے کبھی قرآن کو چھوڑا ہو اور کبھی سنت کو ، کبھی حدیث کو ترک کیا ہو کبھی اجماع کو۔۔۔۔۔اچانک یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ وقت اپنے بے رحم ہاتھوں سے اس امت کی تقدیر کا فیصلہ لکھ دے گا۔قادیان کے گمنام گوشے سے ایک شخص باہر نکلا اور پکار کر کہا سنو ! قرآن کا ایک شوشہ بھی منسوخ نہیں ہو گا اور وہ آگے بڑھا اس پل کو اس طرح پار کیا کہ نہ قرآن کو ہاتھ سے چھوڑا، نہ حدیث کو ،نہ سنت کو ترک کیا نہ اجماع کو ، نہ ہی رسول اللہ صلی علیم کی ذات باجود کی مرکزیت پر کوئی زد آنے دی۔وہ اپنے کارواں کو لے کر یوں پار نکلا کہ تاریکیاں سمٹ کر راستہ دینے لگیں اور نگاہوں کے سامنے صراطِ مستقیم روشن ہو گئی۔"33 7-13- انتظامیہ اس تناظر میں مولوی عبد الحق صاحب کا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے مولوی چراغ علی کے نام خطوط سے براہین احمدیہ میں مدد لینے کا استنباط نہ خطوط کی اندرونی شہادت سے ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی براہین احمدیہ میں درج واقعاتی شہادتیں مولوی عبد الحق صاحب کے استدلال کو سہارا دیتی ہیں اور اس پر مستزاد سرسید اور چراغ علی کا برہمو سماجی میلان تو جناب مرزا صاحب کے طرز عمل اور سرسید ، چراغ علی بشمول مولوی عبد الحق حد فارق ہے جبکہ وہاں خشک عقلیت پسندی جو اندھے فلسفے پر مبنی ہے اور حضرت مرزا صاحب کے یہاں باخد ابلکہ خدانماروحانیت پر زور ہے جو مذہب کو قدیم قصے کہانیوں کے نرغے سے نکال کر مذ ہی حقائق کو عقل و نقل سے روز روشن کی طرح ثابت کرتے ہیں اور سرسید گروپ کے معذرت خواہانہ رویے کی بجائے بطور ایک فتح نصیب جرنیل کے سامنے آتے ہیں جو سر سید اور ان کے رفقاء بشمول چراغ علی وغیرہ کے ہاں مفقود ہے۔لہذا مولوی عبدالحق صاحب کا حضرت مرزا صاحب کے خطوط سے نتیجہ ہر لحاظ سے غلط ہے۔اسے صرف مولوی عبد الحق صاحب موصوف کی عجلت پر مبنی ایک عمد أنا درست اور غلط وبے بنیاد رائے قرار دیا جاسکتا ہے جو مولوی صاحب کے دیگر اکثر مقدمات کی طرح جن کی تردید ہو چکی ہے اور مولوی صاحب کی تحقیق کو نا پختہ اور تعصب