براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 192 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 192

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام مذکورہ امور : “ہم نے عمد ا اس مقدمے میں سلطنت ترکی سے بحث نہیں کی۔اس لیے کہ اب ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور ہمیں دیکھنا ہے کہ یورپین دول اب ینگ ٹرکش کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتی ہیں ، اور ایک اسلامی دولت کی ترقی میں حائل ہوتی ہیں جیسا کہ اب تک ہوا یا اس میں سہولتیں پیدا کرتی ہیں۔یورپ میں ترکی سلطنت مسیحی دول کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے اور اگر آپس کی رقابت ان کی سد راہ نہ ہوتی تو کبھی کی اُن کا شکار ہو چکی تھی۔اس نئے دور کا خیر مقدم اگر چہ بڑی خوشی سے کیا گیا ہے لیکن اُن کا دل جانتا ہے کہ اب اُن کا وہ زور نہیں چل سکتا جو سلطان عبد الحمید خان کے زمانے میں انہیں حاصل تھا کہ جو چاہاد باؤڈال کر لکھوالیا اور جس طرح چاہا سلطنت کو نقصان پہنچا کر اپنے لیے رعایتیں حاصل کر لیں۔29 7-10 - براہین احمدیہ کی تصنیف پر مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کار یویو 192 اس کتاب کی طباعت پر جو خراج عقیدت معاصرین نے پیش کیا وہ کسی بناوٹ پر مبنی نہ تھا بلکہ اظہار حقیقت تھا۔اور یہ ہی وقت تھا کہ جب مرزا صاحب واضح طور پر تحریر فرمارہے تھے کہ یہ کتاب تائید غیبی سے رقم کی گئی ہے آئندہ اس کا سلسلہ کس مقد ار تک پہنچنا ہے وہ رب العالمین کے علم میں ہے جو اس کا متولی ہے۔ایسے وقت میں جب مولوی چراغ علی، سرسید وغیرہ حیات تھے انہیں لکھنا چاہئے تھا کہ دراصل یہ ہماری مدد سے لکھی گئی اب ہم نے مدد موقوف کر دی لہذا کتاب معرض التواء میں پڑ گئی۔مگر جن مضامین کو براہین احمدیہ میں بیان کیا گیا اُن سے مولوی چراغ علی اور سرسید کا مسلک ہی جدا تھا چہ جائیکہ وہ مدد دیتے۔اس کتاب کی اشاعت پر جو ریویو مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب جو اہلحدیثوں کے بہت بڑے لیڈر تھے، نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ جلد 7 نمبر 6 تا 11 میں لکھا وہ دیکھنے کے لائق ہے۔باوجود اس امر کے کہ بعد میں ان کی طرف سے اشد مخالفت کی گئی مگر موصوف نے اپنی تمام زندگی میں اس ریویو کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں لکھا اور تادم آخر خاموشی سے تصدیق کر دی کہ اُن کی وہ رائے اور ریویو بالکل صحیح تھا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لکھتے ہیں کہ “ ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔اور آئندہ کی خبر نہیں لَعَلَّ الله يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ آمرا۔اور اس کا مولف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتادے " 30 ایک طرف حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی تصنیف کے بارے میں آپ کے ایک شدید مخالف کی یہ رائے ہے جو انہوں نے باوجود مخالفت کے تمام عمر نہیں بدلی۔دوسری طرف مولوی چراغ علی صاحب کی کتب کے بارے میں اردو ادب کے ایک نقاد لکھتے ہیں۔“سید صاحب کے (سرسید ) عزیز ترین دوستوں میں نواب محسن الملک اور مولوی چراغ علی بھی تھے۔جنہوں نے اگر چہ کوئی اہم اور قابل ذکر تصنیف نہیں کی تاہم دونوں ان کی تحریک کے زبر دست اور پُر جوش مبلغ تھے۔اس صورت حال میں مولوی چراغ علی صاحب کو حضرت (مرزا صاحب کے بالمقابل رکھنا انصاف کا تقاضا نہیں ہو سکتا۔31", 7-11 - براہین احمدیہ کے بعد حضرت مرزا صاحب کی تصنیف " سرمہ چشم آریہ " پر مولوی محمد حسین بٹالوی کا تبصرہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے نہ صرف براہین احمدیہ پر ریویو لکھا بلکہ جناب حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی کتاب “سرمہ چشم